طالبان دور میں افغان میڈیا شدید بحران کا شکار، صحافیوں پر دباؤ میں اضافہ

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت ملک کا میڈیا ایک گہرے اور کثیرالجہتی بحران کا شکار ہے، جہاں صحافیوں کی گرفتاریاں، تشدد، سنسرشپ اور میڈیا کے معاملات میں مداخلت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

تنظیم نے ’خوف اور سنسرشپ کے سائے تلے‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں 10 جون سے 10 جولائی 2026 کے دوران افغانستان بھر میں میڈیا کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی خبروں کی تردید، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ جعلی قرار

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں صحافیوں کو من مانی گرفتاریوں، بدسلوکی، تشدد اور سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔

اے ایم ایس او کا کہنا ہے کہ بعض صحافیوں کو سرکاری تقریبات کی کوریج کے بعد طالبان انٹیلی جنس نے حراست میں لیا، جبکہ کچھ کو معمولی تنازعات پر بھی گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رہائی پانے والے صحافیوں کو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر خاموش رہنے، شکایت نہ کرنے اور میڈیا سے بات نہ کرنے پر مجبور کیا گیا، جس سے صحافیوں میں خوف اور خود ساختہ سنسرشپ میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں طالبان کے سرکاری ترجمانوں کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

تنظیم کے مطابق سرکاری معلومات اکثر دفتری اوقات کے بجائے رات گئے یا ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جاری کی جاتی ہیں، جس سے صحافیوں کے لیے معلومات تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: فیکٹ چیک: افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا مہم کیسے بے نقاب ہوئی؟

رپورٹ کے مطابق طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے بھی میڈیا سرگرمیوں میں مداخلت بڑھا دی ہے۔

بعض ریڈیو اسٹیشنوں کو خواتین کی آواز نشر کرنے پر تنبیہ کی گئی، جبکہ صحافیوں پر داڑھی رکھنے اور طالبان کی ہدایات کے مطابق ظاہری حلیہ اختیار کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اے ایم ایس او کے مطابق طالبان نے صحافیوں کو افغانستان کی معاشی مشکلات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، طالبان رہنماؤں کے اختلافات اور سیکیورٹی واقعات سے متعلق خبریں شائع کرنے سے بھی روک رکھا ہے۔

بعض صحافیوں کو ایسی خبریں شائع کرنے پر گرفتاری یا معطلی کی دھمکیاں دی گئیں۔

رپورٹ میں سرکاری دفاتر میں اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی کو بھی صحافتی کام میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی میں مسلسل کمی، معلومات تک رسائی پر پابندیاں، صحافیوں پر بڑھتا ہوا سکیورٹی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ اور سخت ہوتی سنسرشپ افغانستان میں آزاد میڈیا کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور چین میں امیگریشن و بارڈر مینجمنٹ تعاون بڑھانے پر اتفاق، مشترکہ ورکنگ گروپ قائم ہوگا

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل شعبے میں 44 کروڑ ڈالر کے 9 معاہدے، وزیراعظم شہباز شریف کا خیرمقدم

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

کیا ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کو دفتری اوقات کے بعد بھی مصنوعی ذہانت سیکھنی چاہیے؟

ویڈیو

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون