کراچی کی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ڈاکٹر آکاش کے ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے مقدمے کی سماعت کی۔ پولیس نے سخت سکیورٹی میں گرفتار تینوں ملزمان سریش عرف ساگر، رام چند اور انیل کو عدالت میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: معروف سندھی شاعر آکاش انصاری کی موت حادثاتی یا قتل؟ پولیس کا نیا انکشاف
سماعت کے موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کو چیمبر میں لے کر آؤ تاکہ میں ان کی شکل دیکھ سکوں۔ ملزمان کی پیشی کے وقت پراسیکیوٹر حسن بھڑی نے ملزمان کی شناخت پریڈ کے لیے عدالت میں درخواست جمع کرائی۔
7 دن کا ریمانڈ منظور
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی فائرنگ کی وجہ سے ہی ڈاکٹر آکاش کا قتل ہوا۔ ملزمان نہایت خطرناک اور عادی جرائم پیشہ ہیں، جن سے مزید تفتیش، لوٹی گئی رقم کی برآمدگی اور ان کے دیگر مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ تاہم، عدالت نے پولیس کی استدعا پر ملزمان کو 7 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفتیشی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔
تفتیشی رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات
سماعت کے دوران پولیس نے تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، رپورٹ کے مطابق ملزمان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آکاش سے رقم لوٹنے اور انہیں قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
اسلحہ ایکٹ کے تحت گرفتاری
ملزمان سریش، رام چند اور انیل کو ابتدائی طور پر اسلحہ ایکٹ کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، دورانِ تفتیش انہوں نے ڈاکٹر آکاش کے قتل کا اعتراف کیا۔
تین تلوار کے پاس ڈکیتی
ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے تین تلوار کے پاس بینک سے رقم نکلوا کر آنے والے شخص سے رقم چھینی تھی۔
گارڈ کی فائرنگ اور جوابی کارروائی
رقم چھیننے کے دوران وہاں موجود سکیورٹی گارڈ نے ملزمان پر فائرنگ کر دی، جس کے جواب میں ملزمان نے بھی اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے۔
20 لاکھ روپے کہاں ہیں؟
پولیس نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر آکاش سے چھینے گئے 20 لاکھ روپے اب تک برآمد نہیں کیے جا سکے۔
لڑکی سمیت 3 ملزمان مفرور
پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس واردات میں مزید تین ملزمان بھی شامل تھے، جنہیں مفرور قرار دے دیا گیا ہے۔ مفرور ملزمان میں اسلم پنہور، ایک لڑکی اور ایک اور بندہ شامل ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق گرفتار ملزمان کی نشان دہی پر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ملزمان کو دیگر مقدمات میں بھی انٹروگیٹ کرنا باقی ہے۔












