نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چین کا دورہ مکمل کرنے کے بعد کہا ہے کہ شنگھائی میں ہونے والی ملاقاتیں انتہائی نتیجہ خیز رہیں، جن میں پاکستان اور چین نے سی پیک 2.0، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور دیگر ترجیحی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے چین کی حکومت اور قیادت کی جانب سے پرتپاک میزبانی اور بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (ڈبلیو اے آئی سی او) کی افتتاحی تقریب سے صدر شی جن پنگ کے خطاب کو بصیرت افروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کی اجتماعی دانش کا قیمتی سرمایہ ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Just concluded a productive visit to Shanghai, China. I express my sincere appreciation to the Government of the People’s Republic of China and its leadership for its warm hospitality and excellent arrangements throughout my short visit.
I also commend H.E. President Xi Jinping… pic.twitter.com/ssuNIqQE1a
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) July 17, 2026
وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ملاقات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے پاک چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں سی پیک 2.0 کے تحت اعلیٰ معیار کی ترقی، سیاح ڈِق مائننگ منصوبہ، قراقرم ہائی وے ری الائنمنٹ منصوبہ اور وزیراعظم شہباز شریف کے مئی 2025 کے دورۂ چین کے دوران طے پانے والے دیگر اہم منصوبوں پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:شنگھائی: اسحاق ڈار، وانگ یی ملاقات؛ سی پیک 2.0 اور اے آئی تعاون پر اتفاق
اسحاق ڈار نے اپنے ہمراہ وفد میں شامل وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی مصطفیٰ ڈار، پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (ایشیا پیسفک) ڈاکٹر سید اسد علی گیلانی کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے یہ دورہ کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔
انہوں نے چین میں پاکستانی سفارتخانے اور شنگھائی قونصل خانے کے حکام کا بھی تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ آئندہ ہفتے اہم سفارتی مصروفیات اور سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اسلام آباد واپس روانہ ہو رہے ہیں۔












