بچوں کو انرجی ڈرنکس بیچنے پر ہزاروں پاؤنڈ جرمانہ کیوں ہوگا؟ برطانیہ کا نیا قانون سامنے آگیا

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی حکومت نے انگلینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو زیادہ کیفین والی انرجی ڈرنکس فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کی صحت کا تحفظ، نیند، ذہنی سکون اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔

حکومت کے مطابق مجوزہ قانون پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد آئندہ سال اپریل سے نافذ العمل ہوگا۔ پابندی ان تمام مشروبات پر لاگو ہوگی جن میں فی لیٹر 150 ملی گرام سے زائد کیفین موجود ہوگی۔ یہ قانون دکانوں، آن لائن ریٹیلرز اور وینڈنگ مشینوں کے ذریعے ہونے والی فروخت پر بھی یکساں طور پر نافذ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: میٹھے مشروبات اور نوجوانوں میں بے چینی کے درمیان تعلق سامنے آگیا

برطانوی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں تقریباً ایک لاکھ بچے روزانہ زیادہ کیفین والی انرجی ڈرنکس استعمال کرتے ہیں جبکہ مختلف تحقیقات میں ان مشروبات کے استعمال کو بچوں میں نیند کی خرابی، بے چینی، سر درد اور توجہ میں کمی جیسے مسائل سے جوڑا گیا ہے۔

وزیر برائے صحت عامہ شیرون ہاجسن نے کہا کہ حکومت بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور یہ اقدام ’اب تک کی صحت مند ترین نسل‘ کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کے جسم اور دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں اس لیے وہ کیفین کے مضر اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کھانے کے بجائے پینا کیوں زیادہ خطرناک؟ ذیابیطس سے جڑا اہم راز سامنے آ گیا

مجوزہ قانون کے تحت چائے اور کافی کے علاوہ ایسے تمام مشروبات پابندی کی زد میں آئیں گے جن میں فی لیٹر 150 ملی گرام سے زیادہ کیفین ہوگی۔ اس وقت بھی ان مصنوعات پر یہ انتباہ درج کرنا لازمی ہے کہ ’زیادہ کیفین پر مشتمل، بچوں اور حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کے لیے تجویز نہیں کیا جاتا‘۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کئی انرجی ڈرنکس میں چینی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے جو موٹاپے اور دانتوں کے امراض کا باعث بن سکتی ہے۔ قانون پر عملدرآمد فوڈ سیفٹی ایکٹ 1990 کے تحت کیا جائے گا اور مقامی حکام اس کی نگرانی کریں گے۔ خلاف ورزی کرنے والے افراد اور چھوٹے کاروباروں پر 1,500 پاؤنڈ جبکہ بڑے کاروباروں پر 2,500 پاؤنڈ تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ادھیڑ عمری میں کافی پینے والوں کے لیے اچھی خبر

دوسری جانب برٹش سافٹ ڈرنکس ایسوسی ایشن نے اس پابندی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے رکن ادارے 2010 سے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کو انرجی ڈرنکس کی تشہیر نہ کرنے کے پابند ہیں۔ تاہم صحت عامہ سے وابستہ تنظیموں نے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

برطانوی حکومت بچوں کی صحت اور ذہنی فلاح کو بہتر بنانے کے لیے دیگر اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے جن میں کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر نئی پابندیاں اور نوجوانوں کے لیے رات کے اوقات میں سوشل میڈیا کرفیو شامل ہیں جبکہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ بھی انرجی ڈرنکس پر اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لنکا پریمیئر لیگ سے قبل بڑا ایکشن، میچ فکسنگ کے شبہے میں بھارتی مالک گرفتار

فیفا ورلڈ کے فاتحین کو پہلی بار امریکی طرز کی انگوٹھیاں دی جائیں گی

تعطیلات خوشی سے غم میں بدل گئیں، ویڈیو کال پر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے امکانات، صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا: چینی سفیر

3 بڑے امریکی ٹی وی چینلز نے ٹرمپ کا خطاب براہِ راست نشر کرنے سے انکار کر دیا

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون