یورپی یونین نے معروف عالمی آن لائن خرید و فروخت پلیٹ فارم ’علی ایکسپریس پر غیر قانونی مصنوعات، جعلی اشیا اور صارفین کے لیے خطرناک قرار دی جانے والی اشیا کی فروخت روکنے میں ناکامی پر 63 کروڑ ڈالر (تقریباً 57 کروڑ یورو) کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔
یورپی حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ’علی ایکسپریس‘ کے پلیٹ فارم پر ایسی مصنوعات بھی فروخت کی جا رہی تھیں جو یورپی یونین کے سخت حفاظتی اور ماحولیاتی معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔ ان میں غیر محفوظ کھلونے، جعلی کاسمیٹکس اور دیگر ایسی اشیا شامل تھیں جو صارفین کے لیے ممکنہ خطرات کا باعث بن سکتی تھیں۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ ’علی ایکسپریس‘ کو کئی مواقع پر متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر غیر قانونی مصنوعات کی فروخت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، تاہم کمپنی مطلوبہ معیار کے مطابق اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔
یورپی یونین نے 2024 میں ’علی ایکسپریس‘ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جو ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (Digital Services Act) کے تحت کی گئی۔ یہ قانون 2022 میں نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد بڑی ٹیک کمپنیوں اور آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کے تحفظ، شفافیت اور غیر قانونی مواد و مصنوعات کے تدارک کے حوالے سے جواب دہ بنانا ہے۔
یورپی کمیشن نے کہا کہ آن لائن خریداری کے نظام میں صارفین کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرنا، ان کے تدارک کے لیے مؤثر طریقہ کار بنانا اور غیر قانونی مصنوعات کی فروخت روکنا پلیٹ فارمز کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
یورپی حکام کے مطابق جرمانے کی رقم کا تعین کرتے وقت خلاف ورزیوں کی نوعیت، ان کے یورپی صارفین پر اثرات، خلاف ورزیوں کے دورانیے اور کمپنی کے طرز عمل سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔
دوسری جانب ’علی ایکسپریس‘ نے یورپی یونین کے فیصلے کو غیر متناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمانہ کمپنی کے موجودہ رسک مینجمنٹ نظام اور صارفین کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو نظر انداز کرتا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔
علی ایکسپریس چین کی بڑی ٹیک کمپنی علی بابا گروپ کا حصہ ہے اور دنیا بھر میں کم قیمت مصنوعات کی آن لائن فروخت کے لیے مشہور ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں یورپ اور دیگر خطوں میں آن لائن مارکیٹ پلیسز پر فروخت ہونے والی مصنوعات کے معیار، جعلی اشیا اور صارفین کے تحفظ سے متعلق نگرانی سخت کی گئی ہے۔
یورپی یونین اس سے قبل دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے خلاف بھی ڈیجیٹل قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائیاں کرچکی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ اور آن لائن مارکیٹ پلیس ٹیمو سمیت متعدد پلیٹ فارمز کو بھی یورپی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر تحقیقات کا سامنا رہا ہے۔














