سعودی عرب نے ویژن 2030 کے آغاز کے تقریباً ایک دہائی بعد معاشی اور سماجی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔
ویژن 2030 کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق روزگار، خواتین کی شمولیت، صحت، رہائش، کھیل، ثقافت اور سماجی ترقی کے متعدد اہداف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر لیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ویژن 2030 کا آغاز اپریل 2016 میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وژن 2030: سعودی عرب میں روزگار، خواتین، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں نمایاں پیشرفت
جس کے تحت مملکت میں معاشی تنوع، سماجی اصلاحات اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد 2020 کے 17 لاکھ سے بڑھ کر 26 لاکھ ہو گئی ہے۔
جبکہ قومی بے روزگاری کی شرح 2016 کے 12.3 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد رہ گئی ہے۔
U.S. Chamber of Commerce Releases Publication Highlighting Saudi Vision 2030 Achievements.https://t.co/zS4L8xpnCe#SPAGOV pic.twitter.com/GL8BVApEe0
— SPAENG (@Spa_Eng) July 18, 2026
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اب 88 لاکھ 80 ہزار افراد کو روزگار فراہم کر رہے ہیں، جو 2025 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔
خواتین کی معاشی شمولیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 22.8 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
جبکہ درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین کا تناسب 43.9 فیصد ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے ویژن 2030 سے پاکستانی کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
اسی طرح کام کرنے کے قابل خصوصی افراد کی روزگار کی شرح بھی مقررہ ہدف سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انسانی ترقی کے اشاریے میں سعودی عرب کا اسکور 0.900 تک پہنچ گیا ہے، جبکہ رضاکاروں کی تعداد 17 لاکھ 49 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو 2030 کے ہدف سے 5 سال پہلے حاصل کر لیا گیا۔
تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی کے شعبے میں بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے، فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے والے 47.41 فیصد نوجوان گریجویشن کے 6 ماہ کے اندر ملازمت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ جامعات اور صنعتوں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔

رہائشی شعبے میں گھر کی ملکیت رکھنے والے سعودی خاندانوں کی شرح بڑھ کر 66.24 فیصد ہو گئی ہے، جو 2025 کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔
صحت کے شعبے میں اوسط متوقع عمر 79.7 سال تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 97.5 فیصد آبادی کو صحت کی سہولیات میسر ہیں۔
متعدی امراض سے اموات میں 50 فیصد اور دائمی بیماریوں سے اموات میں 40 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ سرطان کے 70 فیصد کیسز ابتدائی مرحلے میں تشخیص کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ماحولیاتی بہتری کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں تکنیکی انقلاب کا آغاز
رپورٹ کے مطابق کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، ریاض میں 2025 کے ای اسپورٹس ورلڈ کپ میں 30 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جبکہ خواتین کی کھیلوں میں شرکت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
اسی طرح تفریح، سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: وژن 2030: سعودی عرب نے 2024 کی سالانہ رپورٹ جاری کردی، ریکارڈ کامیابیاں
ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے سعودی عرب کے 8 مقامات یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 2025 میں بیرون ملک سے عمرہ ادا کرنے والے زائرین کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویژن 2030 کے اگلے مرحلے میں روزگار، معیارِ زندگی، سماجی بہبود اور معاشی مواقع کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مملکت کی ترقی کے ثمرات ہر شہری اور رہائشی تک پہنچ سکیں۔














