شفاف انتخابات کا فریب

جمعرات 23 جولائی 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ اتنا قریب آچکا کہ گویا سر پر کھڑا ہے۔ مگر ان متوقع انتخابات کے حوالے سے ایک تنازع بھی موجود ہے۔ یہ تنازع وہاں کی عوامی ایکشن کمیٹی کا پیدا کردہ ہے۔ اگرچہ مؤقف میں وزن پیدا کرنے کے لیے ایکشن کمیٹی نے اور بھی بہت کچھ ڈال رکھا ہے مگر اصل جھگڑا مہاجرین کی 12 سیٹوں پر ہے۔ ایکشن کمیٹی چونکہ غیر سیاسی عناصر کا مجموعہ ہے سو وہ مسئلے کا حل آئینی و جمہوری طریقوں کی بجائے دھونس دھمکی سے چاہتی ہے۔ دھونس دھمکی کی وہی روایت جو عمران خان نے پاکستان میں متعارف کروائی، اور خان کے جیل جانے کے بعد مولانا فضل الرحمان لب و لہجے کے حساب سے ان کے جانشین بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر انہیں بھی اپنی جماعت کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کروانے کا شوق چڑھا ہوا ہے۔

یاد کیجیے 1977 کے وہ انتخابات جن کی نسبت سے پیدا ہونے والا تنازع بھٹو مرحوم کے خلاف تحریک میں بدل گیا تھا۔ تحریک تھی انتخابی دھاندلی کے خلاف اور نام اسے دیا گیا ’تحریک نظام مصطفےٰ‘ اور یہ نظام مصطفےٰ ظاہر کس شکل میں ہوا؟ جنرل ضیا کے مارشل لا اور بھٹو کی پھانسی کی صورت۔ جو اصل نکتہ ہم آپ کو سمجھانا  چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو پہلا لیڈر تھا جو عوامی سیاست لے کر آیا، اور اس حد تک لے کر آیا کہ بے پناہ عوامی حمایت نے بھٹو مرحوم کو ایک فاشسٹ لیڈر بنا کر رکھ دیا۔ قتل، اغوا، مخالفین کے جلسوں پر فائرنگ، جلسہ گاہ میں کبھی سانپ تو کبھی پانی چھوڑ دینا ہی بھٹو دور کی شناخت نہ تھا بلکہ سرکشی اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ فوج کے سربراہ جنرل گل حسن کو ہی گن پوائنٹ پر مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ جب بھٹو یہ سب کررہے تھے تو کارکن کیا کہہ رہے تھے؟ قائد قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن جب اسی بھٹو کو پھانسی لگ گئی تو جنازے تک میں کسی نے ساتھ نہ دیا۔

بھٹو پہلا لیڈر نہ تھا جسے اس کے کارکنوں نے موت کے کنویں میں پھنکوایا۔ عمران خان کی مثال تو بالکل تازہ ہے۔ وہ دن میں دھمکیاں دیتے اور رات کو ٹوئٹ کرتے ’زمان پارک پہنچو‘ اور یہ دور بھی سوشل میڈیا کا تھا، سو یوٹیوبر اور ٹوئٹر بریگیڈ نے اپنے لیڈر کا دماغ مزید خراب کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اور یہ خوشامدی تب تک چین سے نہ بیٹھے جب تک اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ پہنچا دیا۔ خان کی خوش فہمی کیا تھی؟ یہی کہ ملک کا نوجوان ان کے ساتھ ہے کسی نے انہیں ہاتھ بھی لگایا تو پورا ملک ابل پڑے گا۔ ابلا کیا؟ نہیں، بلکہ یہ ہوا کہ جنہوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر خان کو یقین دلایا تھا کہ وہ مرتے دم تک ساتھ دیں گے، سب کے سب قطار میں لگ کر سافٹ ویئر اپڈیٹ کروا بیٹھے۔ اور جس طرح بھٹو کی گرفتاری اور پھانسی کے بعد پیپلزپارٹی کے بہت سے لیڈر پارٹی اور ملک دونوں سے فرار گئے تھے، عین وہی تاریخ یوتھیوں نے بھی دہرائی۔

بھٹو اور عمران خان تو پھر بھی اس قد کے لیڈر تھے کہ ان کے اراکین پارلیمنٹ ہی سینکڑوں میں تھے۔ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے سعادت یافتہ تھے، مولانا فضل الرحمان کے تو سارے ایم این اے ہی ایک چنگ چی کی سواریاں ہیں۔ ان کے سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنا کونسا مسئلہ ہے؟

یہ تین مثالیں ہم نے انتخابات کے پس منظر میں اس لیے دیں کہ ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے کہ مغرب سے آئے انتخابی نظام کو سمجھنے میں ہم سب ایک سنگین غلط فہمی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ انتخابات عوام کے ذریعے عوامی پسند کی حکومت لانے کا نظام ہے۔ سو عوام جسے بھی منتخب کرلیں اسے حق حکمرانی مل جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں بار بار یہ دانش بھگاری گئی کہ مغرب میں تو بڑے شفاف انتخابات ہوتے ہیں، ایک ہم ہی ہیں جنہیں شفاف انتخابات نہیں ملتے، یہ پورا دعویٰ ہی جھوٹ پر کھڑا تھا۔ شفاف انتخابات نام کی کوئی شے دنیا میں وجود ہی نہیں رکھتی۔ مغرب کی کامیابی بس یہ تھی کہ ان کے پاس پروپیگنڈے کا بندوبست بہت اعلیٰ درجے کا تھا۔ ہر شخص کا کسی نہ کسی نیوز چینل اور اخبار پر ایمان تھا۔ سو انہی ذرائع سے سارے اینکرز اور کالم نگار ہر انتخابات کے بعد ایک بات کرتے۔ ’بہت ہی شفاف انتخابات ہوئے‘ اور سننے والے مان جاتے۔ اب جب اسی مغرب کا زوال کا دور شروع ہوا ہے اور کنٹرول ختم ہوتا جا رہا ہے تو ذرا صرف چار مغربی ممالک کے ’شفاف انتخابات‘ کی حقیقت دیکھیے۔

امریکا میں 2016 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دی تو پورے لبرل میڈیا نے یہ مؤقف اختیار کرلیا کہ ٹرمپ اور صدر پیوٹن کے بیچ خفیہ ڈیل ہوئی تھی، اور یہ جیت پیوٹن نے ٹرمپ کو دلائی ہے۔ یہ ڈیموکریٹک پارٹی کا محض پروپیگنڈا نہیں تھا بلکہ سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر رابرٹ مولر کو تحقیقات کے لیے متعین کیا گیا۔ مولر رپورٹ نے یہ تو کہاکہ ٹرمپ کا پیوٹن سے کوئی گٹھ جوڑ نہ تھا، مگر یہ رپورٹ نہ دی کہ انتخابات صاف و شفاف تھے۔ اسی امریکا میں جب چار سال بعد 2020 کے انتخابات آئے تو صدر ٹرمپ نے نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا، اور آج بھی امریکا کے کروڑوں ووٹرز اس بات کے قائل ہیں کہ 2020 کا انتخابی نتیجہ دھاندلی زدہ تھا۔ وہ بھی چھوڑیے اور ذرا تازہ صورتحال دیکھیے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی پوری انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ اگلے انتخابات میں ووٹر آئی ڈی کو لازم کیا جائے مگر اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت یافتہ ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ یہ کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ اب یہ فیصلہ آپ ہی کر لیجیے کہ ووٹر آئی ڈی دھاندلی کے امکان کو ختم کرتی ہے یا پیدا کرتی ہے؟ ایک پولیٹکل پارٹی اس کی مخالفت کیوں کرری ہے؟

اب آجائیے جرمنی کی جانب جو یورپ کا سب بڑا ملک ہے۔ اس ملک میں اے ایف ڈی کے نام سے ایک جماعت کی مقبولیت کا گراف پچھلے پانچ سال سے اوپر جا رہا ہے۔ اس پارٹی کے منشور کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتے، امریکا، روس، اور چین کے ساتھ مساویانہ تعلقات قائم کرنا ہماری ترجیح ہے۔ اب یورپین یونین اور نیٹو دونوں تو کھڑے ہی اس بنیاد پر ہیں کہ روس دشمن ہے اور امریکا ہمارا نگہبان۔ یعنی روس اور چین کے ڈراوے دے دے کر جنگی جنون کو فروغ دیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اسلحے کے کارخانے چلتے ہیں اور کک بیکس کا پورا نظام۔ لہٰذا اے ایف ڈی تو گویا اس پوری 80 سالہ اسکیم کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ چنانچہ آپ گوگل کرکے دیکھ لیجیے، جرمن حکمران پچھلے تین سال سے بار بار یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اس جماعت پر پابندی لگانی پڑے گی کیونکہ یہ جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ اور اس مقصد کے لیے جرمنی کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹس آئے روز جاری کروا کر ماحول بنایا جا رہا ہے۔ کیا شفاف جمہوریت ایسی ہوتی ہے؟

اب ذرا اٹلی کی مثال دیکھیے جو نہات شرمناک ہے۔ ستمبر 2022 میں اٹلی میں عام انتخابات ہونے جا رہے تھے۔ جارجیا ملونی نہایت جارحانہ مہم چلا رہی تھیں۔ وہ برسلز کی بیوروکریسی بہ الفاظ دیگر یورپین یونین کی قیادت پر شدید تنقید کررہی تھیں۔ قومی خود مختاری پر بہت زور دے رہی تھیں، جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ ہم یورپین یونین کی اطاعت نہیں کریں گے۔ وہ یورپین یونین کے اختیارات کم کرنے کا بھی وعدہ کررہی تھیں۔ یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ یورپین یونین کے دو زیر عتاب ممالک پولینڈ اور ہنگری کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم کریں گی، اور ساتھ ہی غیر قانونی امیگریشن روکنے کا بھی وعدہ۔

یوں گویا جارجیا ملونی کا پورا منشور ہی یورپین یونین سے بغاوت پر کھڑا تھا۔ ایسے میں 22 ستمبر 2022 کو امریکا کی پرنسٹن یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد یورپین یونین کی صدر ارسلہ وندرلین سے سوال ہوا کہ اگر اٹلی میں جارجیا ملونی جیت گئیں تو یورپین یونین کیا کرےگی؟ ارسلہ نے جو جواب دیا وہ جمہوریت کے منہ پر سرعام تھوکنے سے کم نہ تھا۔ انہوں نے کہا

‘We’ll see the result of the vote in Italy, If things go in a difficult direction, we have tools, as in the case of Poland and Hungary’

جس کا سادہ ترجمہ ہے: اگر اٹلی مشکل سمت میں گیا تو ہمارے پاس بھی اوزار موجود ہیں، جیسے پولینڈ اور ہنگری کے معاملے میں تھے۔

کیا آپ جانتے ہیں اوزار سے ارسلہ کی مراد کیا تھی؟ اوزار کی اس پوری کٹ کو یورپین یونین کے چارٹر کا آرٹیکل 7 کہا جاتا ہے۔ جو ان رکن ممالک پر لاگو کیا جاتا ہے جو برسلز کی طاقت کو چیلنج کریں، فرمانبردار غلام کی طرح نہ چلیں۔ اس آرٹیکل کے تحت ایسے ملک کا ووٹ کا حلق سلب کرلیا جاتا ہے۔ اسے ملنے والے سالانہ اربوں یورو کے فنڈز روک لیے جاتے ہیں۔ اس کی اے ٹی ایم مشینیں جام کرکے یورو کے استعمال سے روک دیا جاتا ہے۔ اور اس کے خلاف یورپین یونین کی عدالت میں جمہوریت دشمنی کا کیس دائر کردیا جاتا ہے۔  چنانچہ اس دھمکی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو جارجیا ملونی انتخابی مہم کے دوران شیرنی نظر آرہی تھیں، وہ انتخابات جیتنے کے بعد پرشین بلی ثابت ہوئیں، اور برسلز کی مکمل اطاعت اختیار کر گئیں۔

اس سے بھی زیادہ شرمناک مثال رومانیہ کے 2024 کے صدارتی انتخابات کی ہے۔ وہاں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا اور نتائج جاری ہوئے تو کالن جرجسکو واضح مارجن سے پہلا مرحلہ جیت گئے۔ رومانیہ کی آئینی عدالت نے اس کی توثیق بھی کردی، مگر یورپین یونین کے ہیڈکوارٹر برسلز میں تو جیسے زلزلہ ہی آگیا، کیونکہ جرجسکو روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حامی تھے۔ یوں اچانک ہی رومانیہ کی آئینی عدالت نے پورا انتخابی عمل ہی کالعدم کردیا، اور جواز پیش کیاکہ اس الیکشن میں روس نے ٹک ٹاک کے ذریعے جرجسکو کے لیے مداخلت کی ہے۔ جرجسکو نے اپیل دائرکی تو وہ کھڑے کھلوتے ریجیکٹ کردی گئی، اور طے کیا کہ انتخابات اگلے سال مئی میں نئے سرے سے ہوں گے۔ جب 2025 والے انتخابات کے لیے جرجسکو نے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تو رومانیہ کی آئینی عدالت نے انہیں الیکشن کے لئے ہی نااہل کردیا۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ کہ جب رومانیہ کے الیکشن میں یورپین یونین اپنا من پسند امیدوار صدر منتخب کروا چکی تو 6 ماہ بعد یہ معصوم سا اعلان فرما دیا گیا کہ 2024 والے انتخابات بالکل ٹھیک تھے، ثابت ہوگیا ہے کہ روس  یا ٹک ٹاک نے کوئی مداخلت نہ کی تھی۔ لیکن آئینی عدالت کا پرانا فیصلہ برقرار رہے گا۔ اور 2025 میں منتخب ہونے والے برسلز کے پٹھو ہی رومانیہ کے صدر رہیں گے۔

مختصر سے کالم میں بس اتنی سی مثالیں ہی سما سکتی ہیں ورنہ پولینڈ، ہنگری، چیک ری پبلک اور فرانس سمیت کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ جہاں صاف و شفاف انتخابات کے نام پر شرمناک ڈرامے حالیہ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے ہم آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی اور مولانا فضل الرحمان کی بے قرار روح سے گزارش یہ کرنا چاہتے ہیں کہ شفاف انتخابات ہر جگہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پاکستان میں ہوتے آئے ہیں۔ ناپسندیدہ امیدوار کو جیتنے کی اجازت امریکا و یورپ میں بھی نہیں، لیکن انتخابی ڈرامے کا چلتا رہنا ضروری ہے۔ مغربی انتخابات کے حقائق کی روشنی میں یہ ناچیز سا کالم نگار تو اس خوش فہمی سے نکل آیا ہے کہ دنیا میں سچ مچ کے کوئی صاف و شفاف انتخابات بھی پائے جاتے ہیں۔ یوں ہمیں کسی سافٹ ویئر اپڈیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہم جان گئے ہیں کہ انتخابات نام ہی فراڈ کا ہے۔ ایکشن کمیٹی اور مولانا بھی اس حقیقت سے سمجھوتہ کرلیں ورنہ جو بھٹو اور عمران خان کو سنبھال سکتے ہیں وہ مذہبی چنگ چی کو بھی کسی پارکنگ میں کھڑا کرسکتے ہیں۔ آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے اس کالم میں مولانا کا ذکر بار بار کیوں کیا ؟ ان کے حالیہ بیانات کا الیکشن سے تو کوئی تعلق ہی نہیں۔ تو حضور ایسا ہے کہ 2018 اور 2024 کے انتخابی نتائج کی صورت مولانا 8 سال سے مسلسل حصے سے محروم ہیں، اور ان کا اصل غصہ وہی ہے، باقی سب ڈرامے بازی ہے۔ یہ وہی مولانا ہیں جو حصہ دینے پر حدود آرڈیننس کے خاتمے میں جنرل مشرف کے سہولت کار بن گئے تھے، اور حصہ نہ دینے پر حواس کھوتے چلے جا رہے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا کے ایران پر نئے حملے، تیل کی عالمی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ

مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

‘صوبائی حکومت کے وعدوں سے اعتبار اٹھ گیا’، پاکستان کے آخری گاؤں بروغیل میں سڑک کے لیے لانگ مارچ شروع

پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن میں کتنا اضافہ ہوا تھا اور اب فی لیٹر کتنا مارجن وصول کررہے ہیں؟

ویڈیو

مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

پاکستان اور کینیڈا کے معاشی تعلقات کا نیا باب، کراچی کے لیے بڑے منصوبے کا عندیہ

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے