آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان

جمعہ 24 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا

آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔

آکس معاہدہ کیا ہے؟

آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم

اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔

منصوبے پر خدشات بھی برقرار

اگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔

اخراجات میں مزید اضافہ

آکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔

ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

گوگل جیمنی کی اے آئی تصاویر سے نمایاں واٹر مارک ہٹانے کی سہولت متعارف کرا سکتا ہے

35 برس بعد امریکا میں خسرہ کے کیسز ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

پاکستان نے نیپال کو شکست دے کر سینٹرل ایشین والی بال چیمپیئن شپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی بھی پاکستانی گلوکار شمعون اسماعیل کے مداح نکلے

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب