چین کی معروف مصنوعی ذہانت کمپنی آئی فلائی ٹیک نے ایسا جدید ‘اے آئی بلیک بورڈ’ متعارف کرا دیا ہے جو استاد کی آواز، ہاتھ کی لکھائی اور تدریسی مواد کو سمجھ کر اسے فوری طور پر ڈیجیٹل نوٹس اور تھری ڈی ماڈلز میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی
کمپنی نے نئے ژونگ فی ٹونگ شوان اے آئی بلیک بورڈ کی نمائش شنگھائی میں منعقد ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026ء میں کی۔ مظاہرے کے دوران دیکھا گیا کہ استاد عام انداز میں بورڈ پر مساوات یا خاکہ بناتا ہے، جسے یہ ذہین بورڈ فوری طور پر انٹرایکٹو گراف اور تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کر دیتا ہے۔
طلباء ان تھری ڈی ماڈلز کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں، انہیں گھما سکتے ہیں اور ضرورت کے مطابق بڑا یا چھوٹا کر سکتے ہیں، جس سے مشکل موضوعات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ بورڈ خاص طور پر ریاضی، جیومیٹری، کیمیا اور طبیعیات جیسے مضامین کی تدریس کو آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں آواز کو سمجھنے، زبان کا تجزیہ کرنے اور ہاتھ سے لکھی تحریر کو شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔
اے آئی بورڈ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کلاس میں لکھے گئے تمام نوٹس کو خودکار طور پر ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر لیتا ہے، جس سے طلباء کو لیکچر دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ اساتذہ مواد کو محفوظ، ترمیم اور شیئر بھی کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
رپورٹس کے مطابق چین کے 33 صوبوں کے 60 ہزار سے زائد اسکولوں میں 16 کروڑ سے زیادہ طلباء اور اساتذہ پہلے ہی اسمارٹ تعلیمی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
آئی فلائی ٹیک کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد استاد کی جگہ لینا نہیں بلکہ تدریسی عمل کو بہتر بنانا ہے، تاکہ اساتذہ انتظامی کاموں کے بجائے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں اور بہتر سیکھنے پر زیادہ توجہ دے سکیں۔












