طالبان کے خلاف جنگ نئے مرحلے میں داخل، فریڈم فرنٹ کا بڑا دعویٰ

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے خلاف جاری مسلح مزاحمت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ بیان صوبہ بدخشاں کے ضلع زیبک میں طالبان اور مزاحمتی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں دونوں فریقوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رہی۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے سیاسی سربراہ داؤد ناجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بدخشاں کے ضلع زیبک میں طالبان کے خلاف کارروائی ان کی تنظیم نے کی۔ ان کے بقول آزادی کی فیصلہ کن جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اس جدوجہد کا انجام افغانستان کے عوام کی آزادی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

ذرائع کے مطابق طالبان مخالف جنگجوؤں نے زیبک ضلع میں طالبان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ یہ جھڑپیں جمعرات کو شروع ہوئیں اور جمعہ کو بھی وقفے وقفے سے جاری رہیں۔

طالبان حکام نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں کم از کم 5 مزاحمتی جنگجو مارے گئے ہیں۔ تاہم طالبان نے اپنی جانب ہونے والے ممکنہ جانی نقصان یا زخمیوں کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات

دوسری جانب بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران طالبان کے 3 مقامی کمانڈر بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم اس دعوے کی طالبان کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے رہنما داؤد ناجی نے کہا کہ بدخشاں میں ہونے والی جھڑپوں اور کارروائی کی مکمل تفصیلات جلد ایک باضابطہ بیان کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں بدخشاں، تخار، قندوز، کاپیسا اور دیگر شمالی صوبوں میں طالبان مخالف سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کو بعض علاقوں میں بڑھتے ہوئے مسلح چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp