ایس سی او پلیٹ فارم پر پاکستان کی متحرک سفارت کاری، علاقائی امن اور ترقی پر زور

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے علاقائی امن، اقتصادی روابط، سفارت کاری اور باہمی تعاون پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مختلف رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں بھی کیں اور 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی پاکستان میں میزبانی کے عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 23 اور 24 جولائی کو کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔

چولپون آتا پہنچنے پر کرغزستان کے نائب وزیر خارجہ ایرکینوف تورسنکولوف، وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام، کرغزستان میں پاکستان کے سفیر حسن علی زئی اور ایس سی او کے لیے پاکستان کے قومی رابطہ کار ڈاکٹر محمد فیصل نے ان کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران اسحاق ڈار نے کرغزستان کے وزیر خارجہ ژین بیک کولو بائیف کی جانب سے ثقافتی مرکز ’نوماد‘ میں دیے گئے عشائیے میں شرکت کی، جبکہ بعد ازاں انہوں نے کرغزستان کے صدر جباروف سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور پاکستان و کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بیلا روس نے اپنی فضائیہ کو پاکستان ایئر فورس سے ٹریننگ دلانے کی خواہش ظاہر کردی

وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے پاکستان کا قومی مؤقف پیش کیا اور کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم گزشتہ 25 برسوں میں علاقائی امن، سلامتی، اقتصادی روابط اور ترقی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہے۔ انہوں نے ’شنگھائی اسپرٹ‘ کو باہمی اعتماد، مساوات، احترام اور مشترکہ ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے طاقت کے استعمال اور محاذ آرائی پر مبنی سیاست کی مخالفت کی۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کو اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہیں۔ اسحاق ڈار نے علاقائی روابط، ٹرانسپورٹ، غربت کے خاتمے اور عملی اقتصادی تعاون کو ایس سی او کی ترجیحات قرار دیتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خطے میں اقتصادی انضمام اور رابطہ سازی کا مثالی منصوبہ قرار دیا۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (سی ایچ ایس) کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے تیار ہے اور 2027 میں ہونے والے سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے تمام رکن ممالک کو پاکستان میں منعقد ہونے والے آئندہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے کرغزستان کے وزیر خارجہ کے علاوہ چین، ایران، قازقستان، بیلاروس، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، توانائی، سلامتی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ مختلف ممالک کے رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان، قازقستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان کے لیے ایس سی او کے اندر اپنے فعال کردار کو مزید مؤثر بنانے، 27-2026 کی چیئرمین شپ کی تیاریوں کو آگے بڑھانے اور تنظیم کو اقتصادی تعاون، علاقائی خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے لیے مزید فعال پلیٹ فارم بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار