چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسی کامیابی حاصل کر لی ہے جو مستقبل کی ‘فوٹونک کمپیوٹنگ’ یعنی روشنی پر مبنی کمپیوٹنگ کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
پیکنگ یونیورسٹی اور ہاربن انجینیئرنگ یونیورسٹی کے محققین نے بال سے بھی باریک، صرف 20 مائیکرومیٹر قطر کی سلیکون ’فوٹونک کرسٹل مائیکرو کیویٹی‘میں روشنی کو 3 مستحکم حالتوں میں برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں معروف سائنسی جریدے ’نیچر نینو ٹیکنالوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔
روشنی کی ’تیسری حالت‘ کیوں اہم ہے؟
اب تک روشنی کو صرف 2 حالتوں یعنی ‘آن’ اور ‘آف’ میں استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو کہ روایتی ڈیجیٹل کمپیوٹنگ کی بنیاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی سائنسدانوں کا کارنامہ، خنزیرکے جنین سے انسانی گردے تیار کر لیے
تاہم اس نئی تحقیق میں محققین نے روشنی کو ایک اضافی، تیسری مستحکم حالت فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ماہرین کے مطابق ’ملٹی سٹیبلٹی‘ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نظام ایک ہی جیسے حالات میں متعدد مستحکم حالتیں برقرار رکھ سکتا ہے اور بیرونی محرکات کے ذریعے ان کے درمیان بآسانی سوئچ کر سکتا ہے۔ ‘ٹرائی سٹیبلٹی’ دراصل ‘ملٹی سٹیبلٹی’ کی ہی ایک خاص شکل ہے۔
یہ پیش رفت خصوصاً اس لیے اہم ہے کہ اس سے ایک ہی ‘سٹوریج یونٹ’ میں کہیں زیادہ معلومات ذخیرہ کی جا سکتی ہیں، جو آپٹیکل کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سٹوریج دونوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
کم بجلی، بڑا کارنامہ
اس تجربے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے لیے صرف 240 مائیکرو واٹ بجلی درکار ہوئی، جو ایک عام ‘لیزر پوائنٹر’ کی بجلی کی کھپت سے بھی کم ہے۔ محققین نے اسی اصول کی بنیاد پر ایک ‘ملٹی ویلیو آپٹیکل میموری’ ڈیوائس کا پروٹو ٹائپ بھی تیار کر لیا ہے۔
کیسے ممکن ہوا یہ کارنامہ؟
مائیکرو اور نینو سطح کی چپس میں روشنی کے ‘نان لینیئر’ اثرات نہایت کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسے آلات بنانا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا جو روشنی کو مستحکم طور پر متعدد حالتوں میں محفوظ رکھ سکیں۔
مزید پڑھیں:سائنسدانوں کا کارنامہ: بیضہ اور رحم کے بغیر انسانی ایمبریو تیار کر لیا
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے محققین نے ایک مخصوص طبیعیاتی طریقہ کار اپنایا جسے ‘نیئر ایکسیپشنل پوائنٹ کپلنگ’ کہا جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے فوٹونک کرسٹل مائیکرو کیویٹی میں 2 ‘ریزوننٹ موڈز’ ڈیزائن کیے۔ جب نظام کو ایک خاص حالت، جسے ‘ایکسیپشنل پوائنٹ’ کہا جاتا ہے، کی جانب لے جایا گیا تو یہ دونوں موڈز آپس میں مضبوطی سے جڑ گئے، جس سے ان کی طول موج قریب آ گئی اور ‘لائن وڈتھ’ یکجا ہو گئی۔
اسی حالت نے مائیکرو کیویٹی کو یہ صلاحیت دی کہ وہ روشنی کو سختی سے قید رکھتے ہوئے بیرونی ماحول کے ساتھ توانائی کا مؤثر تبادلہ بھی کر سکے، جس سے ‘آپٹیکل ملٹی سٹیبلٹی’ کی راہ ہموار ہوئی۔
اعلیٰ معیار کی چپ، حیران کن نتائج
تجربے میں تیار کی گئی مائیکرو کیویٹی کا ‘کوالٹی فیکٹر’ 10 لاکھ تک ریکارڈ کیا گیا، جس کی بدولت روشنی مائیکرو کیویٹی کے اندر بار بار حرکت کرتی رہی اور آہستگی سے زائل ہوئی۔
انتہائی کم بجلی یعنی 240 مائیکرو واٹ پر ہی نظام میں واضح ‘ٹرائی سٹیبلٹی’ دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق ‘ان پٹ’ بجلی یا طول موج میں معمولی تبدیلی کے ذریعے نظام تیزی اور اعتماد کے ساتھ تینوں حالتوں کے درمیان سوئچ کر سکتا ہے۔
مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ذہین طبیعیاتی ڈیزائن کے ذریعے، انتہائی چھوٹی سلیکون چپ پر بھی روشنی کے ‘نان لینیئر’ اثرات کو قابو میں لایا جا سکتا ہے اور مختلف اقسام کی ‘ملٹی سٹیبلٹی’ پیدا کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہائی بلڈ پریشر سے وابستہ گردوں کی بیماریاں اموات میں اضافے کا سبب قرار
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں ‘آپٹیکل نیورل نیٹ ورکس’ اور ‘نیورومورفک کمپیوٹنگ پروسیسرز’ کی تیاری کے لیے ایک نیا بنیادی جزو فراہم کرے گی، جو زیادہ پیچیدہ معلومات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھیں گے۔














