پاکستانی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت اور کرپٹو کرنسی ماہر وقار ذکا نے عالمی سطح کے ملٹی ایسٹ ٹریڈنگ مقابلے ویکس ٹریڈ فائی ماسٹرز میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔
وقار ذکا نے دنیا بھر سے شریک ہونے والے 3 ہزار سے زائد ٹریڈرز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا۔ یہ مقابلہ روایتی مالیاتی مارکیٹس اور ڈیجیٹل اثاثوں میں مہارت جانچنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس میں شرکا نے اسٹاکس، سونا، چاندی، اجناس اور کرپٹو کرنسیز میں آزادانہ تجارت کی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا کرپٹو کرنسی میں کاروبار پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ
مقابلے کے اصولوں کے مطابق تمام شرکا نے اپنی ذاتی رقم سے ٹریڈنگ کی، جبکہ ٹیم ورک یا ریفرل نظام کی اجازت نہیں تھی۔ مقابلے میں شریک نمایاں ٹریڈرز کو ابتدائی طور پر ایک لاکھ ڈالر کا سرمایہ فراہم کیا گیا۔
وقار ذکا نے 20 روزہ مقابلے کے دوران 74 فیصد منافع حاصل کیا، جس کے نتیجے میں انہیں 74 ہزار ڈالر کا فائدہ ہوا اور ان کے اکاؤنٹ کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 74 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔
مقابلے میں جنوبی کوریا کے ایک ٹریڈر نے 57 فیصد منافع کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ چین سے تعلق رکھنے والے شریک نے 35 فیصد منافع کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
🏆 12 Days. 74% ROI. 1 Brand-New G-Wagon. 🚙💨
Massive congratulations to @ZakaWaqar for crushing it and taking the #1 spot out of 2,000+ elite traders in the WEEX TradeFi Masters! 👑
The WEEX TradeFi Masters is a premier multi-asset trading championship where participants can… pic.twitter.com/aQ5vDtCvlY
— WEEX (@WEEX_Official) July 26, 2026
منتظمین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ویکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے وقار ذکا کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ بطور انعام انہیں دبئی میں 2026 ماڈل مرسڈیز بینز جی ویگن بھی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کرپٹو کرنسی سے کب فائدہ اٹھا سکیں گے؟
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی پاکستانی ٹریڈر نے اس عالمی ملٹی ایسٹ آن لائن ٹریڈنگ مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس سے قبل وقار ذکا اسی نوعیت کے ایک مقابلے میں 8ھویں نمبر پر رہے تھے، تاہم حالیہ مقابلے میں انہوں نے نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا۔
ویکس ٹریڈ فائی ماسٹرز ایک ایسا عالمی مقابلہ ہے جس میں شرکا ایک ہی پلیٹ فارم پر اسٹاکس، سونا، چاندی، اجناس اور کرپٹو کرنسیز میں تجارت کرتے ہیں۔ منتظمین کے مطابق یہ مقابلہ حکمت عملی، خطرات کے بہتر انتظام اور بدلتی مارکیٹ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کو جانچتا ہے۔
وقار ذکا ماضی میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین کے شعبے میں کام کے اعتراف میں بھی سراہا جا چکا ہے۔ وہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کے فروغ کے حامی رہے ہیں اور حکومت کو قومی بٹ کوائن ذخیرہ قائم کرنے کی تجاویز بھی دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کرنسیز سے کیسے مختلف ہوگی؟
ان کا مؤقف رہا ہے کہ بٹ کوائن کی طویل مدتی قدر میں اضافے سے پاکستان مالی فوائد حاصل کر سکتا ہے اور معاشی مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔ وقار ذکا 2016 سے کرپٹو کرنسی کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے سرگرم ہیں، جب بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 268 ڈالر تھی۔
ان کی حالیہ کامیابی عالمی مالیاتی مارکیٹس میں پاکستانی ٹریڈرز کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور روایتی مالیات و کرپٹو کرنسی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔













