انتشار اور فساد کی سیاست کو عوامی پذیرائی نہ ملے تو مذہبی جذبات کا سہارا لینا پرانا طریقہ ہے لیکن اپنی سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 ارکان پارلیمنٹ کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم
پاکستان تحریک انصاف کے مرحوم کارکن اشتیاق احمد کے اہلخانہ سے منسوب بیان کے مطابق پنجاب پولیس نے ان سے بہت تعاون کیا جبکہ پی ٹی آئی نے کوئی مدد نہیں کی۔
ایسے میں سہیل آفریدی کی جانب سے اشتیاق کو ’عاشق رسول‘ قرار دینے سے یہ بنیادی سوال ختم نہیں ہوتا کہ مشکل وقت میں پارٹی کہاں تھی؟
ذرائع کے مطابق پارٹی کارکنوں کی مبینہ بے انتظامی پر وضاحت دینے کے بجائے گفتگو کو مذہبی رخ دینا اصل سوال سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، ہر مسلمان عاشقِ رسول ہے۔ اسے اپنی سیاسی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے یا لانگ مارچ کے لیے حمایت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیے: بھارت پی ٹی آئی کی مدد، آزادکشمیر کشیدگی میں ملوث ہے، افغان پالیسی کے ذمہ دار قومی مجرم ہیں، خواجہ آصف
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خاندان کی مدد کس نے کی اور کس نے اظہار افسوس کی ویڈیو بھی 27 ستمبر کے ٹیگ کے ساتھ پوسٹ کی؟














