وفاقی حکومت کا حجم کم کرنے کا عمل تیز، غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کے خاتمے پر زور

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی حکومت کے حجم میں کمی (رائٹ سائزنگ) اور حکومتی استعدادِ کار میں اضافے سے متعلق اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت وفاقی حکومت کے حجم میں کمی اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے اقدامات پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے حکومت نے سالانہ 56 ارب روپے کی بڑی بچت کیسے کی؟

وزیراعظم نے کہا کہ غیر ضروری آسامیوں اور عہدوں کا خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے تحت ختم کی گئی آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) اور پاسکو کو بند کیا جا چکا ہے، جس سے قومی خزانے پر اخراجات کا بوجھ کم ہو رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تناسب کم ہوا ہے، جبکہ مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کا بھی خاتمہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) اور خودمختار اداروں کی رائٹ سائزنگ سے متعلق تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے یوٹیلیٹی اسٹورز میں بدترین کرپشن تھی، جدید نظام سے کرپشن کا خاتمہ ہوگیا، وزیراعظم شہباز شریف

بریفنگ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

وزیراعظم نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کو ہدایت کی کہ اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ کے اندر مکمل کرے اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد مزید تیز کیا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

راولاکوٹ میں ملک دشمنی کا اظہار کرنے والوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کرلیا

جاپان کے کیوشو جزیرے میں 7.1 شدت کا زلزلہ، متعدد افراد زخمی، عمارتیں منہدم : وزیراعظم سانائے تاکائیچی

خستہ حال پل ٹوٹنے سے بھاری ٹرک ندی میں جا گرا، خیبر پختونخوا سے ہولناک حادثے کی ویڈیو وائرل

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی