ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے امریکا کی معروف چپ ڈیزائنر کمپنی نویڈیا (Nvidia) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔
ایپل کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.94 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی جس کے بعد اس نے چِپ ساز کمپنی نویڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا جس کی مارکیٹ مالیت تقریباً 4.83 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کے اسمارٹ گلاسز 2027 میں متعارف کرائے جانے کا امکان، ممکنہ قیمت کتنی ہوسکتی ہے؟
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کار ایپل کی مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں محتاط سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جہاں دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی انفراسٹرکچر پر دسیوں ارب ڈالر خرچ کر رہی ہیں وہیں ایپل نے اپنے سرمایہ جاتی اخراجات کو محدود رکھتے ہوئے مالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی صارفین کے لیے اے آئی نیا شاپنگ اسسٹنٹ متعارف کرانے کی تیاری
رپورٹس کے مطابق الفابیٹ اور ٹیسلا جیسی کمپنیاں اے آئی ڈیٹا سینٹرز، روبوٹیکسی منصوبوں اور روبوٹکس کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں جبکہ ایپل نے گزشتہ تین سہ ماہیوں کے دوران اپنے سرمایہ جاتی اخراجات میں کمی کی ہے۔ اس کے باوجود کمپنی اپنے ایپل انٹیلی جنس پلیٹ فارم کی توسیع کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل کی محتاط مالی حکمتِ عملی اور اے آئی شعبے میں متوازن پیش رفت نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط کیا ہے جس کے نتیجے میں کمپنی ایک بار پھر عالمی مارکیٹ میں سرفہرست مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔














