افغان طالبان طالبان کے حوالے انکشاف ہوا ہے کہ وہ 10 سال تک کی عمر کے بچوں سمیت دیگر کم عمر افغان بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انہیں انتہا پسندانہ نظریات کی تربیت دینے میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ عمل بچوں کے استحصال کی سنگین ترین شکلوں میں سے ایک ہے، جو انہیں تعلیم، تحفظ اور معمول کے بچپن کے بنیادی حق سے محروم کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے بچوں کی بھرتی ایک منظم پالیسی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت کم عمر ذہنوں کو تعلیم، تنقیدی سوچ اور پرامن بقائے باہمی کے بجائے انتہا پسندانہ نظریات سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔
’بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا افغانستان کے مستقبل پر حملہ ہے‘
رپورٹ کے مطابق بچوں کو ہتھیار اٹھانے اور انتہا پسندی کی طرف مائل کرنا صرف اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ افغانستان کے مستقبل پر براہ راست حملہ ہے۔ تشدد پر پروان چڑھنے والی نسل آنے والے کئی عشروں تک عدم استحکام اور تنازعات کو فروغ دے سکتی ہے۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی بھرتی اور انہیں مسلح تنازعات میں استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ اور اس کے اختیاری پروٹوکول کے تحت بچوں کو مسلح تنازعات میں بھرتی کرنا یا استعمال کرنا ممنوع ہے، جبکہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو جنگی کارروائیوں میں استعمال کرنا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیٹوٹ کے تحت جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔
’طالبان نوجوانوں کی فلاح کے بجائے نظریاتی جنگ کو ترجیح دے رہے ہیں‘
رپورٹ کے مطابق بچوں کو عسکری اور نظریاتی سرگرمیوں میں شامل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان نوجوانوں کی فلاح، تعلیم اور ترقی کے بجائے نظریاتی جنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
طالبان کی جانب سے بچوں کی نظریاتی تربیت میدان جنگ سے بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے، جہاں مذہب کی مسخ شدہ تشریح کے ذریعے بچوں کو تعلیم، تنقیدی سوچ اور برداشت کے بجائے انتہا پسندی، نفرت اور غیر مشروط اطاعت کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔
عالمی برادری سے کارروائی کا مطالبہ
رپورٹ میں میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار نہ کرے، کیونکہ بچوں کی جبری بھرتی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان بچوں کو استحصال اور انتہا پسندانہ نظریاتی تربیت سے بچانے کے لیے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے اور طالبان پر مسلسل بین الاقوامی دباؤ برقرار رکھا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ہر وہ بچہ جو نظریاتی تربیت اور تنازعات کے چکر میں دھکیلا جاتا ہے، وہ نہ صرف اپنے بچپن سے محروم ہوتا ہے بلکہ افغانستان میں طویل المدتی امن، استحکام اور تعمیر نو کی راہ میں ایک نئی رکاوٹ بھی بن جاتا ہے۔














