مودی حکومت نے سیور لائنوں میں 261 ہلاک ورکرز کے اعداد و شمار چھپائے، صفائی کرمچاری آندولن

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں صفائی کے شعبے سے منسلک ورکرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والی نامور تنظیم ‘صفائی کرمچاری آندولن’ (SKA) نے مودی حکومت پر سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران ہلاک ہونے والے ورکرز کی اصل تعداد پارلیمنٹ میں چھپانے اور گمراہ کن اعداد و شمار پیش کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

تنظیم کے مطابق جنوری 2021 سے جولائی 2026 کے درمیان درحقیقت 593 ورکرز لقمہ اجل بنے، جبکہ حکومت نے پارلیمنٹ کو صرف 332 اموات کا بتایا، جس کا مطلب ہے کہ 261 ہلاکتوں پر پردہ ڈالا گیا ہے۔ ان ہلاک ہونے والوں کی اکثریت تاریخی طور پر معاشی و سماجی طور پر پسے ہوئے ‘دلت’ طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار اور حقائق میں بڑا تضاد

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق، ‘صفائی کرمچاری آندولن’ نے ایک پریس ریلیز میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیر برائے سماجی انصاف و بااختیاری، رام داس اٹھاولے نے 21 جولائی کو پارلیمنٹ میں جو ڈیٹا پیش کیا وہ حقیقی صورتحال سے بالکل برعکس ہے۔

حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جنوری 2021 سے جولائی 2026 تک سیور اور سیپٹک ٹینکوں میں صفائی کے دوران 332 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایس کے اے (SKA) کی آزادانہ دستاویزات اور تحقیقی ریکارڈ کے مطابق اس عرصے میں 593 صفائی کارکن جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے مجرمانہ اور بے شرمانہ طریقے سے 261 انسانوں کی اموات کو چھپایا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں اور ان کے دکھ کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جا سکے اور اس سنگین بحران کے حجم کو کم کر کے دکھایا جا سکے۔

رواں سال کی ہلاکتیں اور حکومتی ناکامی

تنظیم نے تشویش ظاہر کی ہے کہ خطرناک طریقوں سے دستی صفائی (Manual Scavenging) کے خاتمے کے تمام تر حکومتی دعووں اور ضمانتوں کے باوجود، صرف سال 2026 کے ابتدائی 207 دنوں کے دوران 113 صفائی ورکرز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں سے 15 اموات صرف جولائی کے مہینے میں ہوئی ہیں۔

ایس کے اے نے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کو مکتوب بھیجے ہیں جن میں ان سے اپریل کی گئی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں سرکاری اعداد و شمار میں کی جانے والی اس ’روبکاری اور ہیرا پھیری‘ کے خلاف آواز اٹھائیں۔ تنظیم نے مزید کہا کہ یہ پورے ملک کے لیے باعثِ شرم ہے کہ اموات کو روکنے کے بجائے حکومت کی تمام تر توجہ صرف اور صرف سچائی کو دبانے اور چھپانے پر مرکوز ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی سے مطالبات

‘صفائی کرمچاری آندولن’ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ وہ سیور اور سیپٹک ٹینکوں میں ہونے والی ان ہلاکتوں کو روکنے میں اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کریں اور فوری اصلاحی اقدامات اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں دلت طالبہ کے ساتھ 64 مردوں کی زیادتی

تنظیم نے نے مطالبہ کیا ہے کہ ان اموات کی تحقیقات کے لیے ایک ‘پارلیمانی قائمہ کمیٹی’ تشکیل دی جائے۔ ہر سال پارلیمنٹ میں اموات، درج مقدمات، ملنے والے معاوضے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی سے متعلق جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ اور سیور کی دستی صفائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے مکمل خاتمے کے لیے ایک وقت کا تعین کر کے قومی منصوبہ مرتب کیا جائے۔

تنظیم کے قومی کنوینر بزواڑہ ولسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں سرکاری اعداد و شمار کے اس تضاد پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا ہے’حکومت سیور اور سیپٹک ٹینکوں میں ہونے والی 261 اموات کو کیوں چھپا رہی ہے؟ جنوری 2021 سے اب تک 593 اموات ہو چکی ہیں لیکن حکومت نے پارلیمنٹ میں صرف 332 کا اعتراف کیا۔ اس ناانصافی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘