بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع کولم میں 29 سالہ مسلمان نوجوان اور نجی بس ڈرائیور ‘سیاد’ پولیس کے مبینہ وحشیانہ تشدد کے باعث ترواننت پورم کے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ مقتول کو کینڈرا (Kundara) پولیس نے ایک لاپتا بچے کے معاملے میں غلط شناخت پر حراست میں لیا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس اور مقامی ذرائع کے مطابق، 29 سالہ سیاد کو ایک 13 سالہ لاپتا بچے کی شکایت پر کینڈرا پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ اگرچہ اگلی ہی صبح لاپتا بچہ بخیریت اپنے گھر پہنچ گیا، جس کے بعد پولیس نے سیاد کو بھی چھوڑ دیا، لیکن اس مختصر حراست کے دوران پولیس کا رویہ انتہائی سفاکانہ رہا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز کاروائیوں پر امریکا کی تحقیقات
شکایت کنندہ نے خود میڈیا کو دیے گئے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس نے پولیس موبائل میں پولیس اہلکاروں کو سیاد پر بدترین تشدد کرتے دیکھا، جہاں وہ شدید درد کے باعث چیختا چلاتا رہا۔
وحشیانہ تشدد اور طبی تفاصیل
اہلِ خانہ کے مطابق، سیاد حراست سے قبل مکمل صحت مند تھا، لیکن پولیس کی بے رحمانہ مار پیٹ کے باعث وہ رہائی کے بعد اس قدر نڈھال ہو گیا کہ پانی پینے سے بھی قاصر رہا۔
حالت مسلسل بگڑنے اور سینے میں شدید درد کی شکایت پر جب اسے ہسپتال منتقل کیا گیا تو ایکس رے رپورٹس میں اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائیں گئیں۔ تشدد کے باعث پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن پھیل گیا، جس پر اسے انتہائی تشویشناک حالت میں ترواننت پورم کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ وینٹی لیٹر پر زندگی کی بازی ہار گیا۔
احتجاج، سیاسی ردِعمل اور قانونی کارروائی
اس جابرانہ واقعے کے بعد پولیس کے خلاف عوام میں شدید اشتعال پھیلا ہوا ہے۔ مقامی رکنِ اسمبلی این بالاگوپال نے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کیرالہ پولیس کے رویے اور حراست کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔
مقتول کے لواحقین نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر کے ان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ فی الوقت ڈسٹرکٹ کرائم برانچ نے معاملہ درج کر کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: زکوۃ جمع کرنے والے 3 مسلمانوں پر ہندوؤں کا تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر ہنگامہ
بھارت میں پولیس حراست کے دوران تشدد اور ہلاکتوں پر انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکثر اوقات اقلیتی اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو بناء کسی ٹھوس ثبوت اور محض شک کی بنیاد پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بھارتی آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی فرد کو حراست کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا غیر قانونی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے تحت حراست میں لیے گئے شخص کا طبی معائنہ کرانا لازمی ہوتا ہے، جس کی اس کیس میں صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔













