اے ٹی ایم مشین 

بدھ 29 جولائی 2026
author image

صنوبر ناظر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دھوپ آج اپنی تمام تر سفاکی کے ساتھ زمین پر اتری ہوئی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سورج آسمان کی بلندیوں سے اتر کر شہر کی گلیوں میں آ بسا ہو اور اس کی دہکتی سانسیں ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوں۔ شدید حبس کا عالم تھا ـ ہوا کا ایک جھونکا بھی میسر نہ تھا۔ سر سے پاؤں تک بدن پسینے میں اس قدر شرابور تھا کہ لباس جسم سے چمٹ رہے تھے۔

شدید گرمی نے پوری مارکیٹ کی رونق نگل لی تھی۔ جہاں عام دنوں میں لوگوں کی چہل پہل، آوازوں کا شور اور خرید و فروخت کا ہنگامہ ہوتا تھا، وہاں آج ایک غیر معمولی خاموشی بسی ہوئی تھی۔ گاہکوں کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ دکاندار اپنی اپنی دکانوں میں خاموش بیٹھے، ایئر کنڈیشنروں کی ٹھنڈی ہوا میں پناہ لیے، باہر برستی آگ سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر گرمی ایسی بے رحم تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے اس کی تپش دیواروں کو بھی چیرتی ہوئی اندر تک اتر آئی ہو۔

گرمی صرف انسانوں ہی پر نہیں، ہر ذی روح پر قیامت بن کر ٹوٹ رہی تھی۔ آوارہ کتے اور بلیاں زبانیں نکالے ایک سائے سے دوسرے سائے کی تلاش میں بھٹک رہے تھے، مگر سائے بھی جیسے سکڑ کر کہیں گم ہو گئے تھے۔ دور دور تک نہ کوئی ٹھنڈی جگہ تھی جہاں وہ چند لمحے دم لے سکتے، نہ پانی کا کوئی قطرہ جو ان کے حلق کی آگ بجھا دیتا۔ کئی دنوں سے بارش نہیں ہوئی تھی۔ گھاس جل کر ایسے زرد پڑ چکی تھی، جیسے اس کی رگوں سے زندگی کا آخری رس بھی نچوڑ لیا گیا ہو۔ درختوں کے پتے گرد کی موٹی تہہ میں لپٹے ہوئے تھے۔ مدت سے کسی پھوار نے انہیں چھوا نہ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بھی خاموشی سے سانس لینے کی جدوجہد کر رہے ہوں، مگر ہر سانس ان پر بوجھ بنتی جا رہی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

زمین تندور کی مانند دہک رہی تھی۔ اس کے سینے سے ایسی تپش اٹھتی تھی کہ قدم رکھتے ہوئے یوں لگتا جیسے آگ پر چل رہے ہوں۔ کہیں کوئی بے خبر چند قطرے پانی کے گرا دیتا تو وہ پل بھر میں بھاپ بن کر اڑ جاتے، اور دھوئیں کی باریک سی لہر فضا میں یوں بلند ہوتی جیسے زمین اپنے اندر کا دکھ ایک آہ کی صورت باہر نکال رہی ہو۔

اسی جھلساتی ہوئی دوپہر میں، بازار کے بیچوں بیچ ملک کے سب سے بڑے بینک کی شاندار عمارت ایستادہ ہے۔ موٹے شیشوں کے پیچھے یخ بستہ ہوا گردش کر رہی ہے۔

بینک کے اندر کا منظر باہر کی دنیا سے بالکل مختلف تھا۔ یخ بستہ فضا میں بیٹھے ملازمین اور گاہکوں کے چہروں پر گرمی کا شائبہ تک نہ تھا۔ کوئی اطمینان سے چائے کی چسکیاں لے رہا تھا، کوئی کافی کے گھونٹوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا، تو کوئی اپنے سینڈوچ کا نوالہ بڑے سکون سے کھا رہا تھا۔ جیسے باہر کی دنیا سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ ہو۔

ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس عمارت کی دیواروں نے باہر کی جھلسا دینے والی دوپہر کو اپنے اندر داخل ہونے کی اجازت ہی نہ دی ہو۔ اندر ہر طرف آسودگی، ٹھنڈک اور سکون کا راج تھا جبکہ چند قدم کے فاصلے پر سورج اپنی پوری بے رحمی کے ساتھ زندگی کو جھلسا رہا تھا۔

 اسی عمارت سے متصل ایک اے ٹی ایم مشین تھی جس کے اندر لاکھوں روپے خاموشی سے محفوظ پڑے تھے۔

اور اس مشین کے باہر ایک محافظ اپنی کرسی پر بیٹھا تھا لیکن اس کے حصے میں ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا تک نہ تھا۔ اس کی وردی پسینے سے بھیگ چکی تھی، مگر اس کے لیے اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت نہ تھی۔ اس کی ذمہ داری ان نوٹوں کی حفاظت کرنا تھی جو خود گرمی، پیاس اور تھکن سے بے نیاز تھے۔

وہ کبھی اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھتا، کبھی سامنے تپتی سڑک پر نظریں جما دیتا، جہاں ایک کتا پیاس سے نڈھال سائے کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔ شاید اس لمحے ان دونوں میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔ ایک اپنے فرض کا اسیر تھا، دوسرا اپنی جبلت کا۔ دونوں ہی اس بے رحم موسم کے سامنے یکساں بے بس تھے۔

اس دوپہر میں یوں محسوس ہوتا تھا کہ سورج صرف آسمان پر نہیں چمک رہا، بلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کو بھی بے نقاب کر رہا ہے ـ وہ نظام جن میں کبھی کبھی دولت کی حفاظت، انسان کی راحت سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔

گھر کا ایئر کنڈیشنر 2 دن سے خراب پڑا تھا۔ محض 2 دن، مگر اس شدید گرمی میں یہ 2 دن اسے 2 صدیوں سے کم محسوس نہ ہوئے تھے۔ دیواریں تپ رہی تھیں، کمرے سانس لیتے ہوئے بھٹّی معلوم ہوتے تھے، اور راتیں بھی دن کی تپش اپنے اندر سمیٹے رہتی تھیں۔ صبح اٹھتے ہی اس نے فیصلہ کر لیا کہ آج ہر صورت الیکٹریشن کو بلا کر یہ مسئلہ حل کروانا ہے۔

الیکٹریشن آیا، دیر تک مشین کے اندر جھانکتا، پیچ کس گھماتا اور تاریں جوڑتا رہا۔ آخرکار خرابی دور ہوگئی۔ جب حساب کرنے کا وقت آیا تو اسے احساس ہوا کہ گھر میں نقد رقم کم ہے۔

’آپ ذرا بیٹھیں، میں ابھی اے ٹی ایم سے پیسے نکال کر آتی ہوں‘۔

اس نے جلدی سے گاڑی نکالی اور مارکیٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔

گاڑی سے باہر قدم رکھتے ہی گرمی نے اس پر ایسے حملہ کیا۔ جیسے کسی نے دہکتے تنور کا دروازہ اس کے سامنے کھول دیا ہو۔ چند قدم کا فاصلہ بھی ایک آزمائش بن گیا۔ وہ جھنجھلاتی ہوئی اے ٹی ایم مشین کے دروازے تک پہنچی۔

بینک کے باہر تعینات محافظ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک لیا۔

’بیگم صاحبہ، اگر آپ دو منٹ انتظار کر لیں… اندر کیش بھرا جا رہا ہے‘۔

مزید پڑھیں:۔ میڈیا اور پروپیگنڈا

وہ بے اختیار جھلا کر بولی، ’کیا مسئلہ ہے!  یہ کون سا وقت ہے کیش بھرنے کا؟ یہ کام صبح نہیں ہو سکتا تھا؟ لوگ اس گرمی میں اب کھڑے انتظار کریں؟‘

محافظ نے نہایت آہستگی سے جواب دیا، جیسے یہ جملہ وہ نہ جانے کتنی بار دہرا چکا ہو۔

’بیگم صاحبہ، میرا اس میں کوئی اختیار نہیں۔ میں تو ملازم ہوں۔ وہ جب حکم دیتے ہیں، اسی وقت کیش ڈالتے ہیں‘۔

وہ خاموش ہوگئی، مگر خاموشی میں بھی بے زاری باقی تھی۔

انتظار کے ان چند لمحوں میں اس کی نظر پہلی بار اس محافظ پر ٹھہر گئی۔

اس کی موٹی، کھردری وردی پسینے سے اس طرح بھیگ چکی تھی جیسے وہ ابھی کپڑوں سمیت  نہا کر آیا ہوـ  تر بتر نیلی وردی جسم سے چمٹی ہوئی تھی اور شاید اس میں ہوا کے گزرنے کی ایک باریک سی راہ بھی موجود نہ تھی۔ اوپر صرف چھت تھی، جو سایہ تو دے رہی تھی مگر ٹھنڈک نہیں۔ ہوا کے لیے پھنکے تک کا انتظام نہ تھا ـ  صرف آگ برساتا سورج اور اس کے نیچے اپنے فرض سے بندھا ایک انسان۔

چند لمحوں بعد اندر سے آواز آئی۔

’ہاں، کسٹمر کو آنے دو۔‘

محافظ نے دروازہ کھولتے ہوئے ادب سے کہا،

’جی بیگم صاحبہ، اب آپ اندر جا سکتی ہیں۔‘

جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ اس نے بے اختیار ایک گہری سانس لی۔ کچھ دیر وہ ایئر کنڈیشنر کے سامنے خاموش کھڑی رہی، جیسے اس کا جسم دوبارہ زندگی حاصل کر رہا ہو۔ ماتھے پر جما پسینہ آہستہ آہستہ خشک ہونے لگا۔

اس نے اے ٹی ایم مشین پر ہاتھ رکھا۔

مشین برف کی سل کی طرح ٹھنڈی تھی۔

ایسا محسوس ہوا جیسے اس نے دھات نہیں، کسی گلیشیئر کو چھو لیا ہو۔ اس نے کارڈ ڈالا، رقم نکالی۔ نئے نوٹ بھی اسی ماحول کی خنکی اپنے اندر سموئے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے وہ بھی اس ٹھنڈے کمرے کے مکین ہی تھے۔ اس نے نوٹ بٹوے میں رکھے اور کچھ لمحوں تک ان بے جان اور خاموش مشینوں کو دیکھتی رہی۔

باہر قدم رکھتے ہی آگ پھر اس کے استقبال کے لیے موجود تھی۔

محافظ اپنی اسی کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہی پسینہ، وہی خاموشی، وہی انتظار۔

اس نے پرس سے 100 روپے کا ایک نوٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔

محافظ نے ہلکی سی جھجک کے ساتھ نوٹ لیا، شکریہ ادا کیا اور پھر اسی طرح سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، جیسے اگلے ہی لمحے کوئی دوسرا گاہک آنے والا ہو۔

گاڑی کی طرف لوٹتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک خیال بار بار ابھرنے لگا۔

کتنی عجیب دنیا ہے۔

اندر رکھی ہوئی بے جان مشینوں کے لیے یخ بستہ ہوا کا مستقل انتظام ہے تاکہ وہ خراب نہ ہوں۔ ان کے اندر پڑے کاغذ کے نوٹ بھی ٹھنڈک میں محفوظ ہیں۔ مگر انہی نوٹوں اور انہی مشینوں کی حفاظت پر مامور ایک زندہ انسان دن بھر جھلساتے سورج کے نیچے بیٹھا ہے۔

مزید پڑھیں: جعفر پناہی کی آف سائیڈ کھلاڑی

اس لمحے اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید اس محافظ سے زیادہ خوش نصیب تو وہ بے جان مشینیں تھیں جنہیں گرمی سے بچانا ضروری سمجھا گیا تھا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عالمی کپ میں فتح: ہسپانوی فٹ بالر نے اپنا عجیب و غریب وعدہ پورا کر دیا

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا؟

شوہر نے بیوی کو پھانسی دے کر قتل کر دیا، سسرال والوں کو ویڈیو کال پر آخری لمحات دکھائے

ایران میں 2 نوجوان مظاہرین کو سرِعام پھانسی، عوامی احتجاج اور شیلنگ

ویڈیو

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

اہلِ کشمیر پاکستان سے محبت کرتے ہیں، ن لیگ کی جیت یقینی، ثاقب مجید راجا نے ایکشن کمیٹی کو ’فتنہ و فساد کمیٹی‘ قرار دے دیا

مراد علی شاہ کارکردگی میں بہتر اور مریم نواز ایڈورٹائزنگ میں، ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی