انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے جو روٹ کو دوبارہ قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کردیا ہے، جبکہ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ کو ٹیسٹ ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ بنا دیا گیا ہے۔
یہ اعلان برینڈن میک کولم کو ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ سے ہٹانے اور سابق کپتان بین اسٹوکس کی رواں ماہ انٹرنیشنل کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ کے بعد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لارڈز پر جو روٹ کی حکمرانی، دہائیوں پرانے ریکارڈز توڑ دیے
برینڈن میک کولم، جو بدستور انگلینڈ کی محدود اوورز کی ٹیموں کے کوچ رہیں گے، جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں 2-1 کی شکست اور اس سے قبل آسٹریلیا میں ایشز سیریز میں ناکامی کے بعد ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیے گئے تھے۔
جو روٹ آئندہ ماہ پاکستان کے خلاف شروع ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دوبارہ ٹیم کی قیادت کریں گے، تاہم اسٹیفن فلیمنگ سال کے آخر میں ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس دوران مارکس ٹریسکوتھک عبوری ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
35 سالہ جو روٹ انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ 65 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی اور 27 ٹیسٹ فتوحات کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ وہ 2017 سے 2022 تک انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان رہے، جبکہ حالیہ نیوزی لینڈ سیریز کے آخری ٹیسٹ میں بھی عبوری کپتان کی حیثیت سے ٹیم کی قیادت کی۔
یہ بھی پڑھیں: دُنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی بین اسٹوکس نے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا، شائقین اداس
جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں 14 ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں اور ہمہ وقت سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والوں کی فہرست میں سچن ٹنڈولکر کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔
اپنی تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے جو روٹ نے کہا کہ دوبارہ انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنا ان کے لیے بڑا اعزاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کپتانی ایک مشکل مگر انتہائی باوقار ذمہ داری ہے اور وہ نئی نسل کے کھلاڑیوں کی قیادت کے لیے پُرجوش ہیں۔
جو روٹ نے اسٹیفن فلیمنگ کو غیر معمولی قائد اور کرکٹ کا گہرا علم رکھنے والا کوچ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔
53 سالہ اسٹیفن فلیمنگ نیوزی لینڈ کی جانب سے 111 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں، جبکہ کوچ کی حیثیت سے ان کی قیادت میں چنئی سپر کنگز نے پانچ مرتبہ انڈین پریمیئر لیگ کا ٹائٹل جیتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو انگلینڈ کی کوچنگ کے لیے شارٹ لسٹ کرلیا گیا
فلیمنگ نے کہا کہ ان کا مقصد فوری کامیابی کے ساتھ ساتھ ایسی مضبوط ٹیم تیار کرنا ہے جو درمیانی اور طویل مدت میں بھی کامیابیاں سمیٹتی رہے۔
انگلینڈ کرکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر راب کی نے کہا کہ اسٹیفن فلیمنگ دنیا کے بہترین کوچز میں شمار ہوتے ہیں اور وہ انگلینڈ کی باصلاحیت ٹیم کو عالمی معیار کی ٹیم بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو روٹ بھی نئی نسل کی قیادت کرتے ہوئے انگلینڈ کرکٹ کے نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
جو روٹ اور اسٹیفن فلیمنگ کی تقرری کے ساتھ ہی برینڈن میک کولم اور بین اسٹوکس کے جارحانہ انداز پر مبنی ‘باز بال’ دور کا اختتام ہو گیا، جس کا آغاز 2022 میں ہوا تھا۔ اگرچہ اس دور میں انگلینڈ نے ابتدائی 11 میں سے 10 ٹیسٹ میچ جیتے، تاہم ٹیم آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔














