بے بنیاد الزامات پر پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا حق محفوظ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا انتباہ

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے واضح کیا ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا قومی سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جسے ملکی اور عالمی سطح پر شفافیت اور مؤثر نظام کے باعث ایک کامیاب ماڈل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ بے بنیاد الزامات یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی صورت میں ادارہ پیکا ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کا اختیار رکھتا ہے۔

بی آئی ایس پی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے وفود اور ترقیاتی شراکت دار اس پروگرام کے تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرتے ہیں، جو اس کی کامیابی اور عالمی اعتماد کا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی رقوم بینک اکاؤنٹس میں براہ راست منتقلی کا فریم ورک جاری

ترجمان نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں بعض عناصر اپنی محدود سوچ اور ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔

بیان کے مطابق کروڑوں مستحق خواتین اور خاندان اس قومی پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، اس لیے بی آئی ایس پی کو بے بنیاد الزامات یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نشانہ بنانا قابل مذمت عمل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ادارہ پیکا ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کا اختیار رکھتا ہے اور اس نوعیت کے بے بنیاد الزامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ترجمان نے کہا کہ بی آئی ایس پی شفافیت اور احتساب کے اعلیٰ ترین اصولوں کے تحت چلایا جاتا ہے۔ اس کے مالی اور انتظامی معاملات کا باقاعدگی سے آڈٹ کیا جاتا ہے، مؤثر نگرانی کا نظام موجود ہے اور بین الاقوامی شراکت دار بھی اس عمل کی نگرانی کرتے ہیں، جو پروگرام کی شفافیت کا واضح ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے ایک کروڑ لوگوں کی مدد کی جارہی ہے، ڈاکٹر امجد ثاقب

بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بھی پروگرام کی کارکردگی اور شفاف نظام پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔ رمضان ریلیف پیکج، کورونا وبا اور سیلاب جیسی ہنگامی صورتحال میں بھی اسی پروگرام کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا، جو اس اعتماد کا عملی اظہار ہے۔

ترجمان نے سیاسی و سماجی حلقوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس اہم قومی ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں، کیونکہ قومی اداروں کی ساکھ کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ مستحق خواتین اور ان کے خاندان باعزت انداز میں اس پروگرام سے مستفید ہوتے رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا