امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کی بیٹی پیرس جیکسن نے والد کے 600 ملین ڈالر کے اثاثے اپنے اور دونوں بھائیوں کے خاندانی ٹرسٹ میں منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا، جس پر جائیداد کی انتظامیہ اور ان کے درمیان قانونی تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ لاس اینجلس کی عدالت 4 دسمبر کو پیرس جیکسن کی درخواست کی سماعت کرے گی، جس میں انہوں نے والد کے اثاثوں سے رقم بچوں کے لیے مختص ٹرسٹ میں منتقل کرنے کی استدعا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موت کے 16 سال بعد بھی مقبولیت برقرار، مائیکل جیکسن سب سے زیادہ کمانے والے گلوکار قرار
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ پیرس جیکسن نے 29 اکتوبر کو لاس اینجلس کی عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا کہ مائیکل جیکسن کی 2009 میں وفات کے 17 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے بچوں کے خاندانی ٹرسٹ کو مکمل طور پر فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔
پیرس جیکسن نے اپنے لیے اور اپنے دونوں بھائیوں، 29 سالہ پرنس جیکسن اور 24 سالہ بیگی جیکسن کے لیے 600 ملین ڈالر یا عدالت کی جانب سے مناسب سمجھی جانے والی رقم ٹرسٹ میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب مائیکل جیکسن کے اثاثوں کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ قانونی معاملات زیر التوا ہونے کے باعث ٹرسٹ کو مکمل طور پر فنڈز فراہم کرنا فی الحال ممکن نہیں۔ انتظامیہ کے مطابق امریکی محکمہ محصولات (آئی آر ایس) کے ساتھ بھی ٹیکس کا تنازع موجود ہے، جس میں ابتدائی طور پر 700 ملین ڈالر ٹیکس اور جرمانوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس رقم میں کمی ہوئی، تاہم حتمی واجبات کا تعین ابھی باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مائیکل جیکسن کی زندگی کے چند حیرت انگیز حقائق کیا ہیں؟
اثاثوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کے ورثا کو اب تک 200 ملین ڈالر سے زائد رقم ادا کی جاچکی ہے، جبکہ ان کی وصیت کے مطابق بچوں کو 30 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مکمل رقم دینے کی شرط نہیں ہے۔
انتظامیہ نے بچوں کو ادائیگیوں میں کمی سے متعلق پیرس جیکسن کے مؤقف کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے۔
600 ملین ڈالر دستیاب ہونے کا مؤقف
پیرس جیکسن نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے والد کے اثاثوں کی انتظامیہ کے پاس ٹرسٹ کو فنڈز فراہم کرنے کے لیے خاطر خواہ رقم موجود ہے۔
انہوں نے 2018 میں ای ایم آئی میوزک پبلشنگ میں مائیکل جیکسن کے حصص کی 287.5 ملین ڈالر میں فروخت، 2020 میں نیورلینڈ رینچ کی 22 ملین ڈالر میں فروخت اور 2023 میں سونی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مائیکل جیکسن کی میلی جرابیں بھی نیلام ہوگئیں لیکن کتنے لاکھ میں؟
پیرس کے مطابق ان تمام معاہدوں سے ٹیکس اور دیگر اخراجات سے قبل ایک ارب ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ دسمبر 2024 کے مالیاتی حسابات میں تقریباً 850 ملین ڈالر نقد رقم موجود تھی، جبکہ واجبات منہا کرنے کے بعد بھی لگ بھگ 600 ملین ڈالر دستیاب ہونے چاہئیں۔
پیرس جیکسن نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اثاثوں کی انتظامیہ پر ان کے اعتراضات کے بعد انہیں عوامی تنقید اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے اور دونوں بھائیوں کے لیے مختص رقم میں بھی کئی ملین ڈالر کی کمی کی گئی۔
ان کے ترجمان نے اثاثوں کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی نااہلی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔
قانونی فرموں کو بونس کی واپسی کا حکم
رپورٹ کے مطابق رواں سال مئی میں ایک جج نے پیرس جیکسن کے اعتراضات کے بعد قانونی فرموں کو 2018 میں بونس کی مد میں ادا کیے گئے 625 ہزار ڈالر واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
مائیکل جیکسن کے اثاثوں کی انتظامیہ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ جان میک کلین کی مئی میں وفات کے بعد اب جان برانکا ان کی جائیداد کے واحد منتظم رہ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ مائیکل جیکسن کا انتقال 2009 میں ہوا تھا اور ان کے تین بچے پیرس، پرنس اور بیگی ان کے قانونی ورثا ہیں۔ ان کے اثاثوں کی تقسیم اور بچوں کے لیے قائم ٹرسٹ کو مکمل فنڈز کی فراہمی کا معاملہ اب عدالت میں زیر غور ہے۔











