عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے پاکستان کے چاروں صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر 3، 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پیچیدہ انتظامی ضروریات کے پیش نظر ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

عبدالعلیم خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات اور حکومتی امور سے متعلق تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں انتظامی ڈھانچے میں بہتری ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو انتظامی بنیادوں پر بالترتیب نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے 3، 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے، جس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی طور پر 12 نئے انتظامی یونٹس قائم ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار سے کسی بھی صوبے کا موجودہ نام تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جبکہ تمام علاقوں کی تاریخی، ثقافتی اور علاقائی شناخت بھی برقرار رہے گی۔

عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ اس وقت شہریوں کو معمولی سرکاری اور قانونی امور کے لیے بھی اپنے صوبائی دارالحکومتوں تک سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس قائم کر دیے جائیں اور لوگوں کے مسائل ان کے گھروں کے قریب حل ہونا شروع ہو جائیں تو اس پر اعتراض کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی ’بادشاہت‘ محدود ہوتی ہے تو یہ الگ بات ہے، لیکن پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں۔

یہ بھی پڑھیے جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہو گی، جبکہ چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور ہائی کورٹس جیسے اہم ادارے عوام کو زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کا معاملہ زیادہ تر سیاسی نعروں تک محدود رہا ہے، تاہم اب ضرورت ہے کہ تمام سیاسی قوتیں وسیع تر قومی مفاد میں ایک متفقہ حکمت عملی اختیار کریں۔

عبدالعلیم خان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس ملک کو تقسیم کرنے کا سبب نہیں بنیں گے بلکہ قومی یکجہتی کو مضبوط کریں گے، معیشت کو استحکام دیں گے اور ملک کے مختلف علاقوں میں ترقی کے عمل کو متوازن بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘