وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ پرامن انداز میں مکمل ہوا، عوام نے بھرپور طریقے سے حق رائے دہی استعمال کیا، جبکہ دھاندلی سے متعلق الزامات کے بجائے ثبوت الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک مجموعی طور پر انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹرز کی سہولت کے لیے پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ بھی کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے صبح قریباً ساڑھے 10 بجے ہی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیے تھے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پورے آزاد کشمیر میں دن بھر کے دوران صرف تین واقعات پیش آئے، لیکن انہیں غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں 90 فیصد سے زیادہ ٹرن آؤٹ کو دھاندلی قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ ان کے امیدوار نے متعلقہ پولنگ اسٹیشن کی فہرست فراہم کی تھی جہاں 90 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ ہوا، اور اس حوالے سے تمام اعتراضات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ چوہدری لطیف اکبر اپنے پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کرنے گئے تھے جہاں ایک خاندان کے افراد سے ان کی صرف تلخ کلامی ہوئی۔ وہاں نہ کوئی ہاتھا پائی ہوئی اور نہ ہی کوئی جھگڑا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی نے مکا مارا، فائرنگ کی یا ڈنڈا استعمال کیا تو ہم اس کی ذمہ داری قبول کریں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایک کارکن ہارٹ اٹیک کے باعث جاں بحق ہوا، تاہم اس واقعے کو قتل قرار دیا جا رہا ہے، جس کی حقیقت تحقیقات سے سامنے آنی چاہیے۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہیں غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں اور بعض لوگ انہیں ورغلا کر غلط بیانی کروا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کا الزام، نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کردیا
مشیر وزیراعظم نے کہاکہ 99 فیصد پولنگ سے متعلق اگر کسی کو اعتراضات ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں۔ چند پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج سے مجموعی انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوں گے، اس لیے انتخابی تنازعات قانون اور الیکشن کمیشن کے ذریعے ہی حل ہونے چاہییں اور دھاندلی کے الزامات کے بجائے شواہد متعلقہ فورم پر پیش کیے جائیں۔
پیپلز پارٹی عجیب و غریب الزامات عائد کررہی ہے، امیر مقام
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کام الزامات لگانا اور میڈیا کو مصروف رکھنا ہے، وہ آزاد کشمیر انتخابات پر بے بنیاد اور عجیب و غریب الزامات عائد کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر حکومت کا حصہ نہیں بلکہ وہ قانون اور آئین کے مطابق اپنے دائرۂ اختیار میں کام کرتا ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کا احترام سب پر لازم ہے اور انتخابی معاملات کا فیصلہ بھی وہی کرے گا۔
امیر مقام نے کہاکہ قائم مقام صدر آزاد کشمیر اور اسپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی جانب سے سیکیورٹی نہ ملنے کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ انہیں سیکیورٹی فراہم کرنا آزاد کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اپنی ہی حکومت پر سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا الزام لگانا کسی طور درست نہیں۔
انہوں نے بیلٹ پیپر سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ نمونہ بیلٹ پیپر صرف ووٹرز کی رہنمائی اور ووٹ ڈالنے کا طریقہ سمجھانے کے لیے دکھایا جاتا ہے، اسے اصل بیلٹ پیپر قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر سے متعلق لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں اور محض الزامات لگا کر انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ اگر کسی سیاسی جماعت کو کوئی شکایت یا تحفظات ہیں تو وہ متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کرے، میڈیا ٹرائل مناسب طرز عمل نہیں۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر حکومت، وزیراعظم اور صدر امن و امان کے ذمہ دار ہیں، جبکہ حقائق کے بجائے الزام تراشی کی سیاست سے انتخابی عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کشمیری مہاجرین کی 12 اسمبلی نشستیں: تاریخ، آئینی حیثیت اور موجودہ تنازع
امیر مقام نے مزید کہاکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان کے تحفظات سنے گئے تھے۔ ابتدا میں 13 نشستوں پر اعتراضات کیے گئے، بعد ازاں یہ تعداد کم ہو کر 4 اور پھر صرف 2 نشستوں تک محدود رہ گئی۔ ان کے مطابق تحفظات بھی صرف چند پولنگ اسٹیشنوں پر زیادہ ٹرن آؤٹ سے متعلق تھے، جبکہ زیادہ ووٹنگ صرف مخالف امیدواروں کے حلقوں میں نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے پولنگ اسٹیشنز پر بھی ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ اگر چند پولنگ اسٹیشنوں پر ری پولنگ بھی ہو جائے تو اس سے مجموعی انتخابی نتائج تبدیل نہیں ہوں گے، کیونکہ جہاں امیدوار ہزاروں ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہو رہا ہو وہاں چند پولنگ اسٹیشن نتائج پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔














