پاکستان تحریک انصاف کے پشاور جلسے کے لیے میدان سج چکا ہے۔ پارٹی کے مطابق اس جلسے میں صوبے بھر سے بڑی تعداد میں کارکن شرکت کریں گے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آئندہ کے لائحۂ عمل سے متعلق اہم اعلان کریں گے۔
پی ٹی آئی نے ابتدا میں جلسہ پشاور شہر میں واقع عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں مقام تبدیل کرکے اسے پشاور موٹروے ٹول پلازہ کے قریب واقع ایک کرکٹ گراؤنڈ میں منتقل کر دیا گیا۔
جلسہ شہر سے باہر موٹروے ٹول پلازہ کے قریب واقع کرکٹ گراؤنڈ میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق یہ مقام صوبے بھر سے آنے والے کارکنوں کے لیے زیادہ موزوں ہے اور اس سے شہریوں کو ٹریفک سمیت دیگر مشکلات کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کی بڑھتی سیاسی سرگرمیاں اور پی ٹی آئی قیادت غائب، کیا پارٹی پر قبضہ ہونے جارہا ہے؟
جلسہ گاہ میں خصوصی اسٹیج تیار کر لیا گیا ہے، کارکنوں کے لیے کرسیاں لگا دی گئی ہیں جبکہ لائٹنگ کا بھی مکمل انتظام کیا گیا ہے۔
جلسہ گاہ میں کرسیاں لگانے والے ایک کارکن نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 6 ہزار کرسیاں لگانے کا آرڈر دیا گیا ہے، جنہیں نصب کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جلسہ گاہ میں روشنی کا مکمل انتظام ہے اور جلسہ رات گئے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جلسے میں کارکنوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق وزیراعلیٰ نے اس جلسے کو ’سیمی فائنل‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسی جلسے میں ’فائنل‘ مرحلے کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ ان کے مطابق کارکن پُرجوش ہیں اور اس اعلان کے بے تابی سے منتظر ہیں۔
جلسہ موٹروے کے قریب کیوں منتقل کیا گیا؟
پاکستان تحریک انصاف نے ابتدا میں 5 اگست کا جلسہ پشاور شہر میں واقع عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں مقام تبدیل کرکے اسے موٹروے ٹول پلازہ کے قریب واقع ایک کرکٹ گراؤنڈ میں منتقل کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم شہر کے اندر واقع ہے، جہاں جلسے کی صورت میں شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ موٹروے کے قریب مقام ہونے کی وجہ سے صوبے بھر سے آنے والے کارکنوں کی رسائی بھی آسان ہوگی۔
تاہم بعض مبصرین اس فیصلے کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ پشاور کے سینیئر صحافی کامران علی کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے جلسے کا مقام تبدیل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم جیسا بڑا مقام بھرنا آسان نہیں ہوگا، جس سے سیاسی طور پر منفی تاثر پیدا ہو سکتا تھا۔ اسی لیے جلسے کو نسبتاً چھوٹے کرکٹ گراؤنڈ میں منتقل کیا گیا۔
کامران علی کے مطابق جس گراؤنڈ میں جلسہ منعقد ہو رہا ہے وہ محدود گنجائش کا حامل ہے، جبکہ اس کے بھی تقریباً نصف حصے کو سکیورٹی انتظامات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان کے بقول اس صورت میں جلسہ گاہ کی مجموعی گنجائش کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اسے بھرنا نسبتاً آسان ہوگا۔













