کراچی کے علاقے بہادر آباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر 2 گروپوں کے درمیان ہونے والے شدید تصادم، ہاتھا پائی اور فائرنگ کے واقعے کا پولیس نے باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔
فائرنگ کے اس واقعے کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ بہادر آباد کی مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بھی بند ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک فون کال پر شہر بند کرانے سے میڈیا ٹاک کے لیے منت سماجت تک، ایم کیو ایم کے زوال کی اندرونی کہانی
پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں سرکار کی مدعیت میں درج کیا ہے، جس میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7، اقدامِ قتل کی دفعہ 324، بلوے سے متعلق دفعات 147، 148 اور 149، نیز دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
زخمیوں کی تفصیلات اور ایف آئی آر کا متن
ایف آئی آر کے متن کے مطابق پولیس نے مقدمے میں کسی مخصوص گروپ کا نام شامل نہیں کیا، جبکہ تاحال تصادم کی اصل وجہ بھی سامنے نہیں لائی گئی۔

ابتدائی معلومات اور ایف آئی آر کے مطابق 2 گروپوں کے درمیان تصادم کے دوران فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے۔ 40 سالہ عامر ولد حبیب علی ہاتھ پر گولی لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ 35 سالہ اسد ولد قیصر اور 22 سالہ کاشف علی عرف کاشر لڑائی جھگڑے اور بلوے کے دوران زخمی ہوئے۔ تینوں زخمیوں کو علاج کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ تصادم کے وقت ایک جانب اظہر عرف لمبا اور ذیشان حبیب موجود تھے، جبکہ دوسری جانب 20 سے 25 نامعلوم افراد تھے، جو ایک دوسرے پر فائرنگ اور شدید لڑائی کرتے رہے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش پر پابندی نافذ ہے، لہٰذا قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
عارضی مرکز پر دھاوا اور فائرنگ کا واقعہ
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اتوار کو ایم کیو ایم پاکستان کے بہادر آباد میں واقع عارضی مرکز پر ایک گروپ کا اجلاس جاری تھا۔ اسی دوران دوسرے گروپ کے کارکن وہاں پہنچ گئے اور دھاوا بول دیا۔
اس کے بعد دونوں اطراف کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی، ہاتھا پائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں علاقے کی دکانیں اور مارکیٹیں خوف کے باعث فوری طور پر بند ہو گئیں، جبکہ علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس کے رحمان بھولا حراست میں
اتوار کی شب بہادر آباد میں جھگڑے اور فائرنگ کا واقعہ پیش آنے کے فوری بعد سیکیورٹی اداروں نے نارتھ ناظم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں حال ہی میں بری ہونے والے عبدالرحمٰن عرف بھولا کو ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا۔
مزید پڑھیں: کیا ایم کیو ایم کی اعلی قیادت کراچی کے میئر شپ کے خواب دیکھ رہی ہے؟
رحمن بھولا کو گھر سے حراست میں لیے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے، جس میں سادہ لباس اہلکار، پولیس یونیفارم میں ملبوس اہلکار اور خواتین پولیس اہلکار انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
ٍپولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر تمام نامزد اور نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔













