یوکرین کے ماہرین فلکیات کی ایک نئی تحقیق نے چاند پر نامعلوم اجسام کی موجودگی سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جوہری تنصیب کے اوپر پراسرار شے، پینٹاگون نے یو ایف اوز سے متعلق نئی فائلیں جاری کر دیں
تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنہ 2025 کے دوران چاند کے گرد یا اس کی سطح کے قریب 20 سے زائد نامعلوم اجسام (یو ایف اوز/یو اے پیز) دیکھے گئے تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ شواہد کسی غیر انسانی یا ذہین تہذیب کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
یوکرین کی مین آسٹرونومیکل آبزرویٹری کے سائنس دانوں کے مطابق مشاہدات کے دوران متعدد ایسے اجسام ریکارڈ کیے گئے جن کی حرکت اور چمک کے انداز غیر معمولی تھے جس کی وجہ سے ان کی اصل نوعیت کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے۔
تحقیق کے مطابق بعض اجسام قرص نما (ڈسک نما) دکھائی دیے جن کا اندازاً قطر 15 سے 25 میل کے درمیان تھا۔ محققین نے ان اجسام کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا۔
مزید پڑھیے: پینٹاگون کی نئی یو ایف او فائلز منظر عام پر، پراسرار چمکتے گولوں کے انکشاف نے توجہ حاصل کر لی
پہلی قسم ایسے اجسام پر مشتمل تھی جو چاند کے مقابلے میں تقریباً ایک ہی مقام پر موجود رہے اور 0.1 سے 0.5 سیکنڈ کے وقفوں سے تیز روشنی کی بار بار چمک پیدا کرتے رہے۔
دوسری قسم میں ایسے اجسام شامل تھے جو چاند کی سطح کے اوپر انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرتے دکھائی دیے۔ تحقیق کے مطابق ایک جسم تقریباً 14 میل کا فاصلہ 4.1 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرتا دیکھا گیا۔
Scientists issue warning after spotting more than 20 giant UFOs racing across the moon
— Daily Mail US (@Daily_MailUS) August 4, 2026
محققین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 16 اگست 2025 کو دن کے وقت حلقہ نما اجسام کا بھی مشاہدہ کیا گیا جو تقریباً تمام شعاعوں کو جذب کرتے دکھائی دیے۔ ان کا قطر تقریباً 22 میل تھا، وہ ہر تین منٹ میں ایک چکر مکمل کرتے تھے اور ان کی رفتار تقریباً 6.8 میل فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیں: یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟
تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں لکھا کہ اگرچہ ان اجسام کی بعض خصوصیات کسی منظم سرگرمی کی عکاسی کر سکتی ہیں تاہم موجودہ مشاہدات اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتے کہ ان پر کسی ذہین مخلوق کا کنٹرول ہے۔
سائنس دانوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ ممکن ہے چاند نامعلوم فضائی اجسام (یو ایف اوز) کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال ہو رہا ہو اور اگر ایسا ہے تو یہ اجسام تقریباً 20 منٹ میں زمین تک پہنچ سکتے ہیں اور فضائی حدود میں نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پیز) کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
تحقیق کے دوران ماہرین نے دوربینوں کے ساتھ نصب ہائی اسپیڈ کیمروں کی مدد سے ان مشاہدات کو ریکارڈ کیا۔
تاہم محققین نے خود بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ تحقیق ابھی پیئر ریویو کے مرحلے سے نہیں گزری اور نہ ہی اس کے نتائج کی کسی آزاد سائنسی ادارے نے تصدیق کی ہے اس لیے ان دعوؤں کو حتمی سائنسی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
انہوں نے کہا کہ ان اجسام کی غیر معمولی اور بظاہر منظم حرکات مزید تحقیق کی متقاضی ہیں تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کا تعلق کسی غیر انسانی یا انتہائی ترقی یافتہ تہذیب سے ہے۔














