درآمدات میں بے پناہ اضافہ، مالی سال کے پہلے ماہ تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رواں مالی سال  27-2026 کے پہلے ہی ماہ ملکی تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ادارہ شماریات کی جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق جولائی میں مجموعی تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 25.17 فیصد بڑھ کر 3.94 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے تجارتی خسارہ ہمیشہ سے ایک حساس اور چیلنجنگ شعبہ رہا ہے، کیونکہ درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار زرِ مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر براہِ راست دباؤ ڈالتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اپریل: پاکستانی برآمدات میں بہتری کے آثار، درآمدات میں اضافے سے تجارتی خسارہ برقرار

نئے مالی سال کے آغاز پر جاری ہونے والے یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برآمدات میں بہتری کے باوجود درآمدی بل میں تیزی سے اضافہ معیشت کے لیے ایک بار پھر تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں اضافہ

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 3.15 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جو رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں بڑھ کر 3.94 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یوں سالانہ بنیادوں پر خسارے میں 25.17 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی میں ملکی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.93 ارب ڈالر تک جا پہنچیں، تاہم اسی دوران درآمدات میں 18 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو بڑھ کر 6.88 ارب ڈالر ہو گئیں۔

درآمدات میں یہ تیزی برآمدات میں ہونے والی بہتری کو مکمل طور پر زائل کرتے ہوئے مجموعی تجارتی خسارے میں اضافے کا باعث بنی۔

ماہانہ بنیادوں پر صورتحال

ماہانہ بنیادوں پر یعنی جون کے مقابلے میں جولائی کے دوران برآمدات میں 31 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور یہ 2.24 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.94 ارب ڈالر تک جا پہنچیں، جبکہ اسی عرصے میں درآمدات میں 0.17 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 8.88 ارب ڈالر رہیں۔

مزید پڑھیں:رواں مالی سال کے 4 ماہ میں تجارتی خسارہ 38 فیصد بڑھ گیا

ان دونوں رجحانات کے نتیجے میں ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں 15.22 فیصد کی کمی واقع ہوئی اور یہ 3 ارب 94 کروڑ ڈالر تک محدود رہا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں

ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں بہتری اور خسارے میں کمی کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سالانہ بنیادوں پر درآمدات میں 18 فیصد کا اضافہ ماہرینِ معیشت کے لیے یقیناً تشویش کا باعث ہے۔

اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ ماہ میں تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر پڑنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا