گزشتہ سال سے خلا میں گردش کرنے والا اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا ایک حصہ بدھ کی صبح تیز رفتاری سے چاند سے ٹکرا گیا یا ٹکرانے کی توقع تھی، تاہم اس تصادم کی باضابطہ تصدیق کئی گھنٹے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔
اسکول بس کے حجم کے برابر یہ راکٹ کا حصہ جنوری 2025 میں اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے فائر فلائی ایرو اسپیس کے قمری لینڈر کو چاند کی جانب روانہ کرنے والے مشن کا حصہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس راکٹ کا ناکارہ حصہ چاند کے مدار میں، اگست میں بڑے ٹکراؤ کا امکان
تقریباً 4 میٹرک ٹن وزنی یہ راکٹ باڈی مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 35 منٹ (0635 جی ایم ٹی) پر تقریباً 5 ہزار 400 میل فی گھنٹہ (8 ہزار 690 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند سے ٹکرانے والی تھی۔
تاہم چاند کے گرد گردش کرنے والا کوئی بھی خلائی جہاز اس لمحے ایسی پوزیشن میں نہیں تھا کہ تصادم کی براہِ راست تصاویر حاصل کر سکے۔
🚀 IMPACT ON THE MOON! A Falcon 9 rocket stage is about to collide with our natural satellite 🌕 On August 5, 2026, at approximately 06:35 UTC, an upper stage of a Falcon 9 will hit. pic.twitter.com/3SMl2becTu
— Stellarix (@Stellarixorine) August 5, 2026
ماہرین کے مطابق تصادم کے نتیجے میں چاند کی سطح سے گرد و غبار کا بڑا بادل اٹھنے کا امکان تھا، جو سورج کی روشنی میں روشن تو ہو سکتا ہے، لیکن زمین سے اسے انسانی آنکھ سے دیکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔
سائنسدان امریکا میں موجود دوربینوں سے حاصل ہونے والی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس تصادم کی تصدیق کر سکیں گے۔
اسپیس ایکس نے واضح کیا ہے کہ یہ تصادم دانستہ نہیں تھا، راکٹ کا یہ حصہ چاند کے مغربی کنارے پر واقع آئن اسٹائن کریٹر سے ٹکرانے کی توقع تھی، جو زمین سے عام طور پر واضح دکھائی نہیں دیتا۔
راکٹ کا حصہ چاند تک کیسے پہنچا؟
عام طور پر راکٹ کے دوسرے مرحلے کو اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد زمین کے ماحول میں واپس لا کر جلا دیا جاتا ہے یا سمندر میں گرا دیا جاتا ہے، لیکن چونکہ جنوری 2025 کا قمری مشن زمین کے قریب مشنز کے مقابلے میں زیادہ طاقت کا متقاضی تھا، اس لیے راکٹ کا دوسرا حصہ خلا ہی میں رہ گیا اور ہزاروں دیگر خلائی ملبے کے ٹکڑوں کے ساتھ بے مقصد گردش کرتا رہا۔
رواں سال کے آغاز میں ماہرین فلکیات نے اندازہ لگایا کہ راکٹ کا یہ حصہ، جس کا ایندھن مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا اور جسے مزید کنٹرول نہیں کیا جا سکتا تھا، ایسی مدار میں داخل ہو چکا ہے جو بالآخر اسے چاند تک لے جائے گی۔
مزید پڑھیں: انسان دوبارہ چاند کی جانب سفر کے لیے تیار، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی
اسپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شائمن کے مطابق سورج کی سرگرمی اور کششِ ثقل کی مشترکہ قوتوں نے راکٹ کے اس حصے کو چاند کی جانب دھکیل دیا۔
ماہر فلکیات اور معروف فلکیاتی سافٹ ویئر کے خالق بل گرے نے کہا کہ اس تصادم سے محدود پیمانے پر سائنسی معلومات حاصل ہونے کی امید ہے، تاہم یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ استعمال شدہ خلائی آلات کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
چاند سے خلائی ملبے کے تصادم نایاب
چاند سے خلائی ملبے کے تصادم کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ مارچ 2022 میں ایک چینی راکٹ کا مرحلہ قمری آزمائشی مشن مکمل کرنے کے بعد چاند سے ٹکرا گیا تھا، جبکہ 2009 میں ناسا نے جان بوجھ کر ایک راکٹ کا حصہ چاند سے ٹکرا کر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا تھا۔
حالیہ برسوں میں کئی قمری لینڈرز بھی کامیابی سے لینڈ کرنے کے بجائے چاند پر گر کر تباہ ہوئے، روس کا لونا 25 مشن 2023 میں، بھارت کا چندریان 2 لینڈر 2019 میں اور اسرائیل کا بیریشیٹ لینڈر بھی اسی سال چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں: چاند کی گرد میں خلائی مخلوق کی تہذیبوں کے آثار چھپے ہو سکتے ہیں، نئی تحقیق
اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے غیر ارادی تصادم سے بچنے کے لیے ناسا کے ساتھ مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے، کیونکہ امریکی خلائی ادارہ اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت اس دہائی کے آخر تک چاند پر مستقل اڈہ قائم کرنے اور خلا بازوں کے باقاعدہ مشنز شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں اس نوعیت کا خلائی ملبہ مستقبل کے مشنز کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔













