آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دو مراحل مکمل ہونے کے بعد سیاسی منظرنامہ واضح ہونا شروع ہوگیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) 24 نشستیں جیت کر اسمبلی کی سب سے بڑی اور سادہ اکثریت حاصل کرنے والی جماعت بن کر ابھری ہے، جس کے بعد تمام تر توجہ تیسرے اور آخری مرحلے کے انتخابات اور اس کے بعد ہونے والی حکومت سازی پر مرکوز ہوگئی ہے۔
اگرچہ مسلم لیگ (ن) واضح برتری حاصل کر چکی ہے، تاہم پونچھ ڈویژن کی باقی نشستوں پر 10 اگست کو ہونے والے انتخابات کے نتائج نہ صرف اسمبلی کی مجموعی سیاسی تصویر کو مزید واضح کریں گے بلکہ نئی حکومت کے خدوخال اور کابینہ کی تشکیل پر بھی اثرانداز ہوں گے۔
مزید پڑھیں: کسی کو شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رجوع کرے، ن لیگ نے آزاد کشمیر میں دھاندلی کا الزام مسترد کردیا
اسی لیے انتخابی مہم کے آخری مرحلے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کے منصب کے لیے بھی پارٹی کے اندر مختلف نام زیر گردش ہیں۔
مسلم لیگ ن 24 نشستیں حاصل کرکے پہلے نمبر پر، پیپلز پارٹی کی 10 سیٹیں
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن اب تک مظفرآباد اور میرپور ڈویژن کی 22 عام نشستوں کے علاوہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر انتخابات کا انعقاد کروا چکا ہے۔ ان دو مراحل کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) 24 نشستیں جیت کر قانون ساز اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر ہوگا، جس کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی کی مکمل سیاسی تصویر واضح ہو جائےگی۔
وزارت عظمیٰ کے لیے 5 اہم شخصیات کے نام زیر غور
مسلم لیگ (ن) کے اندر وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے کئی سینیئر رہنماؤں کے نام سامنے آرہے ہیں۔ ان میں پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر، سینیئر رہنما طارق فاروق، سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان، سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس اور سابق وزیر نجیب نقی شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایسے امیدوار کا انتخاب ہوگا جو نہ صرف تمام دھڑوں کے لیے قابل قبول ہو بلکہ آئندہ 5 برس تک حکومت کو مستحکم انداز میں چلا سکے۔
2 امیدوار ابھی انتخابی میدان میں
وزارتِ عظمیٰ کے لیے زیر غور آنے والے امیدواروں میں دو ایسے رہنما بھی شامل ہیں جن کا انتخابی امتحان ابھی باقی ہے۔
سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس اور سابق وزیر نجیب نقی تیسرے مرحلے کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، اس لیے ان کی سیاسی قسمت کا فیصلہ 10 اگست کو ہونے والی پولنگ کے بعد ہوگا۔ دونوں رہنماؤں کی کامیابی یا ناکامی وزارت عظمیٰ کی دوڑ پر بھی براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر کو پارٹی کی تنظیمی سیاست میں مضبوط مقام حاصل ہے اور انہیں مختلف دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا رہنما تصور کیا جاتا ہے۔
سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان بھی اپنے وسیع انتظامی اور سیاسی تجربے کے باعث اہم امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ طارق فاروق کو بھی پارٹی کے تجربہ کار اور بااثر رہنماؤں میں شمار کیا جا رہا ہے، جنہوں نے مختلف ادوار میں اہم آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
53 ارکان پر مشتمل ایوان میں حکومت بنانے کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا ایوان 53 ارکان پر مشتمل ہے۔ 45 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں، جن میں آزاد کشمیر کے 33 حلقے اور مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ خواتین کی 5 مخصوص نشستیں، ایک علما و مشائخ، ایک ٹیکنو کریٹ اور ایک نشست اوورسیز کے لیے مختص ہے۔
حکومت سازی کے لیے ابتدائی حکمت عملی تیار
مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے حکومت سازی کے حوالے سے ابتدائی حکمت عملی بھی مرتب کرلی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نئی حکومت میں مختصر اور مؤثر کابینہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور حکومتی فیصلوں میں تیزی اور مؤثریت پیدا ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی حکمت عملی کے تحت مہاجرین کی نشستوں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ نئی حکومت اقتدار سنبھالتے ہی پہلے روز سے عوام کو یہ واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس کی اولین ترجیح سیاسی معاملات کے بجائے گڈ گورننس، مالی نظم و ضبط اور عوامی مسائل کا حل ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کے ابتدائی ایام میں ہی عوامی فلاح، انتظامی اصلاحات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے متعلق ترجیحات کا اعلان کیا جائےگا تاکہ عوام کا نئی حکومت پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔
آخری مرحلہ حکومت سازی کا رخ متعین کرے گا
پونچھ ڈویژن میں ہونے والے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے بعد اسمبلی کی تمام نشستوں کا فیصلہ ہو جائے گا، جس کے بعد نومنتخب اراکین اسمبلی حلف اٹھائیں گے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا اور پھر قائد ایوان یعنی وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ آئے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) اس وقت حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں ہے، تاہم باقی نشستوں کے نتائج پارٹی کے اندر طاقت کے توازن، وزارتوں کی تقسیم اور وزیراعظم کے انتخاب پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
پارٹی کی اعلیٰ قیادت آئندہ چند روز میں حکومت سازی کے تمام معاملات کو حتمی شکل دے گی تاکہ نئی حکومت ابتدا ہی سے ایک واضح حکمت عملی، محدود مگر فعال کابینہ اور عوامی مسائل کے حل کے ایجنڈے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔
شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار ہیں، راجا کفیل احمد
آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی و تجزیہ کار راجا کفیل احمد نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی نئی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج ایکشن کمیٹی کا درپیش ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ایکشن کمیٹی اس وقت بند گلی میں داخل ہو چکی ہے، اور انہیں واپسی کے لیے فیس سیونگ چاہیے ہوگی، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آزاد کشمیر میں نئی بننے والی حکومت انہیں کیسے ڈیل کرتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار ن لیگ کے صدر شاہ غلام قادر ہیں، تاہم راجا فاروق حیدر، مشتاق منہاس اور طارق فاروق بھی دوڑ میں شامل ہیں۔
نئے وزیراعظم کے لیے طارق فاروق فیورٹ ہیں، جاوید اقبال ہاشمی
سینیئر صحافی و تجزیہ کار جاوید اقبال ہاشمی سیاسی امور کے ماہر ہیں، وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں نئے وزیراعظم کے لیے شاہ غلام قادر، طارق فاروق اور راجا فاروق حیدر کے درمیان مقابلہ ہے، تاہم چوہدری طارق فاروق فیورٹ ہیں۔
جاوید ہاشمی نے کہاکہ چونکہ چوہدری طارق فاروق انتظامی طور پر وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اور انہیں مسلم لیگ ن کا دماغ کہا جاتا ہے، اور عوام کو ان پر اعتماد بھی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے بعد بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو مطمئن کرنے کے لیے ایسی شخصیت کا انتخاب ضروری ہے، جس کے چاہنے والے لوگ وہاں پر موجود ہوں، اور اس کے لیے طارق فاروق سے بہتر کوئی آپشن نہیں۔
جاوید ہاشمی نے کہاکہ سابق صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد چوہدری طارق فاروق ہی ایسی شخصیت ہیں، جنہیں بیرون ملک مقیم کشمیری چاہتے ہیں، اور ان کی بات سنتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر چوہدری طارق فاروق وزیراعظم بن جاتے ہیں تو وہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی افراتفری کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ چوہدری طارق فاروق کے وزیراعظم بننے کی صورت میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کو صدر ریاست کے لیے نامزد کیا جائےگا۔
شاہ غلام قادر پارٹی صدر ہونے کی وجہ سے وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں، خواجہ متین
سینیئر صحافی و تجزیہ کار خواجہ اے متین نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شاہ غلام قادر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر ہیں اور وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہی آئندہ وزیراعظم کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں بننے والی نئی حکومت کو ریاست میں امن و امان قائم کرنے کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہوگا، اور دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ کس طرح اس معاملے کو ہینڈل کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: میرپور ڈویژن انتخابات: بڑے برج الٹ گئے، 5 نئے چہرے پہلی مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی پہنچنے میں کامیاب
خواجہ اے متین کے مطابق بہتر ہوگا کہ اب ایکشن کمیٹی کو کوئی راستہ دے دیا جائے کیوں کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں پر تو الیکشن ہو چکے ہیں اور ان نشستوں کا خاتمہ کا اب ایکشن کمیٹی کا مطالبہ نہیں رہا۔













