وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا، صحافتی برادری خود ایسا طریقہ کار اپنائے کہ غلط خبر کو غلط قرار دے اور ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔
لاہور میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صوبے میں ڈھائی ہزار سے زائد ڈمی اخبارات ختم کیے گئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے اختیار ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی سے متعلق فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کے اختیارات پر نظرثانی کی جا رہی ہے، اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو اپنی تجاویز پیش کرے گی۔
وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ کون سا اخبار باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے اور کون سا ڈمی ہے، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز کے پاس اس حوالے سے کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں، انہیں جو معلومات فراہم کی جاتی ہیں وہ اسی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بیرون ملک بیٹھے بعض یوٹیوبرز ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر صحافی برادری خود اپنی صفوں میں احتساب کا نظام قائم کرے اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے تو حکومت کو کسی قانون سازی یا اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز کے خاتمے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سیرت فیسٹیول: مقررین کا سوشل میڈیا کے منفی رجحانات اور فیک نیوز پر اظہارِ تشویش














