ایشین ہاکی فیڈریشن نے 20ویں ایشین گیمز کی ہاکی مقابلوں کا ڈرا اور شیڈول جاری کر دیا، جس کے تحت پاکستان کو پول ’بی‘ میں ملائیشیا، چین، عمان، ازبکستان اور تھائی لینڈ کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
گرین شرٹس اپنی مہم کا آغاز 20 ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف کریں گے، جبکہ سیمی فائنل میں رسائی کے لیے ابتدائی مرحلے میں ٹاپ 2 ٹیموں میں جگہ بنانا ہوگی۔
پاکستان پول ’بی‘ میں شامل
ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے ڈرا کے مطابق 20ویں ایشین گیمز کی مردوں کی ہاکی مقابلوں میں پاکستان کو پول ’بی‘ میں رکھا گیا ہے، جہاں اس کے ساتھ ملائیشیا، چین، عمان، ازبکستان اور تھائی لینڈ بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خواتین ہاکی کو دوبارہ فعال بنانے کا منصوبہ، نئی کھلاڑیوں کو عالمی میدان میں موقع مل گیا
دوسری جانب پول ’اے‘ میں بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور انڈونیشیا کو جگہ دی گئی ہے۔
پاکستان کے میچز کا شیڈول
پاکستان اپنی مہم کا آغاز 20 ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف کرے گا، جبکہ اگلے ہی روز 21 ستمبر کو ازبکستان کا سامنا کرے گا۔
گرین شرٹس کا تیسرا گروپ میچ 24 ستمبر کو چین کے خلاف ہوگا، جبکہ ابتدائی مرحلے کے آخری 2 مقابلے بالترتیب 26 ستمبر کو ملائیشیا اور 28 ستمبر کو عمان کے خلاف کھیلے جائیں گے۔
ٹورنامنٹ کا فارمیٹ
20ویں ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان میں منعقد ہوں گے۔ ٹورنامنٹ میں شریک 12 ٹیمیں اپنے اپنے پول میں لیگ مرحلے کے تحت ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی۔
دونوں پولز کی ٹاپ 2 ٹیمیں 1 اکتوبر کو ہونے والے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی، جبکہ باقی ٹیمیں درجہ بندی کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔ دونوں سیمی فائنلز کی فاتح ٹیمیں 3 اکتوبر کو گولڈ میڈل کے لیے آمنے سامنے ہوں گی۔
مزید پڑھیں:قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے اسپورٹس بورڈ کی دعوت مسترد کردی، وجہ کیا بنی؟
ایشین گیمز میں پاکستان کی شرکت ایسے وقت میں ہوگی جب قومی ٹیم ایک ماہ قبل طویل انتظار کے بعد ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں واپسی کرے گی۔
ورلڈ کپ، جو 15 سے 30 اگست تک نیدرلینڈز اور بیلجیم کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا، میں پاکستان اپنا پہلا میچ 15 اگست کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گا۔
قومی ٹیم دوسرا گروپ میچ 17 اگست کو ویلز کے خلاف کھیلے گی، جبکہ لیگ مرحلے کا سب سے بڑا مقابلہ 19 اگست کو روایتی حریف بھارت کے خلاف ہوگا۔ ایشین گیمز کو بھی پاکستان ہاکی کے لیے اپنی بحالی کے سفر میں ایک اہم امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔














