وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کو 30 ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا عزم اسلام آباد سیف سٹی کو جدید، سمارٹ اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر عالمی معیار کا ادارہ بنانا ہے، جو شہریوں کے تحفظ، مؤثر نگرانی اور فوری رسپانس کو یقینی بنائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں وزیر داخلہ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں سیف سٹی توسیعی منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیف سٹی توسیعی منصوبے کا مجموعی طور پر 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ نئے نگرانی کیمروں کی تنصیب کا بھی 85 فیصد مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 415 کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے، جبکہ ڈیٹا سینٹر، سائبر آرکیٹیکچر اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق کام بھی 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
محسن نقوی نے منصوبے کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ توسیعی منصوبے کو ہر صورت 30 ستمبر تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سیف سٹی کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ عالمی معیار کا نظام بنایا جا رہا ہے، جس سے شہریوں کی حفاظت، مؤثر نگرانی اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیر داخلہ نے اجلاس کے دوران اسلام آباد سیف سٹی کے جدید فیوژن سینٹر کو بھی آئندہ تین ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیف سٹی سے متعلق مجوزہ بل کو جلد حتمی شکل دے کر قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے تاکہ ادارے کے قانونی اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، سیف سٹی کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اور منصوبے کی مختلف جہتوں پر پیش رفت سے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا۔












