اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسمی حالات اور عالمی تنازعات کے باعث دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے ایک نئے عالمی غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایف اے او کے مطابق جولائی میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ جولائی میں 131 اعشاریہ 1 پوائنٹس رہا، جو جون کے 130 اعشاریہ 3 پوائنٹس کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بھوک کا بحران اسرائیل نے جان بوجھ کر پیدا کیا، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
رپورٹ کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی کی لہریں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، ایل نینو کے باعث فصلوں کو نقصان اور مختلف خطوں میں جاری جنگی کشیدگی شامل ہیں۔
ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق جولائی میں اناج کی قیمتوں کے اشاریے میں 3 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گندم کی قیمتیں 5 اعشاریہ 8 فیصد تک بڑھ گئیں۔ بحیرہ اسود کے خطے سے برآمدات متاثر ہونے کے خدشات اور اہم پیداواری علاقوں میں گرمی کے باعث گندم کی پیداوار متاثر ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوردنی تیل کی قیمتوں کے اشاریے میں بھی 2 فیصد اضافہ ہوا، جو جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بایو ڈیزل کی طلب بڑھنے سے پام اور سویا تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایل نینو دنیا میں بھوک کا نیا بحران پیدا کر سکتا ہے، 27 کروڑ 40 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کے خطرے میں
چینی کی قیمتوں میں 5 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ یورپ اور ایشیا میں خراب موسمی حالات اور برازیل میں ایتھنول کی بڑھتی ہوئی طلب کو قرار دیا گیا۔
دوسری جانب گوشت کی قیمتوں میں 2 اعشاریہ 8 فیصد کمی ہوئی، تاہم اوشیانا کے خطے میں برآمدی قلت کے باعث بھیڑ کے گوشت کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ دودھ کی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 0 اعشاریہ 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایف اے او کے مطابق جولائی کا مجموعی غذائی قیمتوں کا اشاریہ اپریل میں ریکارڈ کیے گئے تین سالہ بلند ترین مقام سے معمولی زیادہ رہا، تاہم مارچ 2022 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں اب بھی 18 اعشاریہ 2 فیصد کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو مشکلات کا سامنا، پچاس سال بعد مہنگائی بلند ترین سطح پر: عالمی بینک
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، زرعی پیداوار میں مشکلات اور بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات کے باعث دنیا ایک بار پھر غذائی مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا کرسکتی ہے۔













