غریبوں، لاوارث افراد اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے فلاحی ادارے بھی جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ نہیں رہے۔ کراچی میں ایدھی ویلفیئر سینٹر پر دن دہاڑے ڈکیتی کی واردات نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے بلکہ ایسے فلاحی اداروں کی سکیورٹی سے متعلق بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے جہاں عوام کی امانت اور عطیات محفوظ رکھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایدھی‘ خدمتِ خلق کا استعارہ
کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی ویلفیئر سینٹر پر مسلح ملزمان نے ڈکیتی کی واردات کرتے ہوئے لاکھوں روپے لوٹ لیے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے اسی روز بینک سے رقم نکلوائی گئی تھی۔
ایدھی ویلفیئر سینٹر کے ترجمان نے بتایا کہ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مسلح ملزمان ایدھی سینٹر پہنچے اور اسلحے کے زور پر تقریباً 65 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے فوری بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ملازمین سے ابتدائی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ملازمین نے پولیس کو بتایا کہ چاروں ملزمان ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے جس کے باعث ان کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔
مزید پڑھیے: عبدالستار ایدھی قوم کا فخر، قومی اثاثہ اور انسانیت کی خدمت کی روشن مثال ہیں، صدر اور وزیراعظم کا خراجِ عقیدت
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واردات کے مقام اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری میں مدد مل سکے جبکہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایدھی سینٹر غریبوں، بے سہارا اور لاوارث افراد کے لیے امید کا مرکز ہے اور ایسے فلاحی اداروں پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
مزید پڑھیں: عبدالستار ایدھی کا مشن جاری ہے: ایدھی کنٹرول روم سے براہِ راست
انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔














