بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں خوراک اور امدادی سامان کی فراہمی محدود کرکے دانستہ طور پر غذائی قلت کا بحران پیدا کیا۔
تنظیم کے مطابق اس صورتحال نے خاص طور پر نومولود بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ غذائی قلت کے باعث قبل از وقت پیدائش، کم وزن بچوں اور اموات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے اسرائیل پر غزہ میں خوراک اور امدادی سامان کی فراہمی دانستہ طور پر محدود کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ’مصنوعی غذائی بحران‘ پیدا ہو چکا ہے، جس کے تباہ کن اثرات خاص طور پر نومولود بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں پر پڑ رہے ہیں۔
ایم ایس ایف کی جانب سے جاری رپورٹ میں غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی نظام کی جگہ قائم کیے گئے امریکا اور اسرائیل کے حمایت یافتہ نجی ادارے کے کردار پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔
تنظیم، جو اپنے فرانسیسی مخفف ’ایم ایس ایف‘ سے جانی جاتی ہے، نے اپنی رپورٹ غزہ کی پٹی میں اپنے زیرِ انتظام 4 طبی مراکز کے اعداد و شمار اور 2024 کے اواخر سے 2026 کے اوائل تک کی صورتحال کے تجزیے پر مبنی قرار دی۔
رپورٹ کے مطابق غذائی قلت کا شکار ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں قبل از وقت پیدائش اور اموات کی شرح نمایاں طور پر زیادہ دیکھی گئی، جبکہ اسقاطِ حمل کے واقعات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایم ایس ایف نے ان نتائج کو اسرائیل کی جانب سے ضروری اشیا کی ناکہ بندی اور طبی مراکز سمیت شہری ڈھانچے پر حملوں سے جوڑا ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ عدم تحفظ، نقل مکانی، امداد پر پابندیاں اور خوراک و طبی سہولیات تک محدود رسائی نے ماؤں اور نومولود بچوں کی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔
ایم ایس ایف نے خبردار کیا کہ گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود صورتحال اب بھی ’انتہائی نازک‘ ہے۔ تنظیم نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں امدادی سامان اور ضروری اشیا کی بلا رکاوٹ فراہمی فوری طور پر بحال کی جائے۔
ایم ایس ایف کی ہنگامی طبی ماہر مرسے روکسپانا نے کہا کہ غذائی قلت کا یہ بحران مکمل طور پر مصنوعی ہے۔ ان کے مطابق جنگ سے پہلے غزہ میں غذائی قلت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔
غذائی قلت کا شکار مائیں اور نومولود بچے
ایم ایس ایف کے مطابق اس نے گزشتہ سال جون سے رواں سال جنوری تک خان یونس اور غزہ سٹی کے اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت وارڈز میں زیرِ علاج 200 سے زائد ماؤں اور نومولود بچوں کا ڈیٹا جمع کیا۔
تجزیے سے معلوم ہوا کہ نصف سے زائد خواتین حمل کے دوران کسی نہ کسی مرحلے پر غذائی قلت کا شکار رہیں، جبکہ ایک چوتھائی خواتین زچگی کے وقت بھی غذائی قلت میں مبتلا تھیں۔
رپورٹ کے مطابق غذائی قلت کا شکار ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے 90 فیصد بچے قبل از وقت پیدا ہوئے، جبکہ 84 فیصد بچوں کا وزن پیدائش کے وقت معمول سے کم تھا۔
ایم ایس ایف نے بتایا کہ غذائی قلت کا شکار ماؤں کے بچوں میں اموات کی شرح ان بچوں کے مقابلے میں دوگنا تھی جن کی مائیں غذائی قلت کا شکار نہیں تھیں۔
تنظیم نے اکتوبر 2024 سے دسمبر 2025 تک خان یونس میں 6 ماہ سے کم عمر 513 بچوں کے اعداد و شمار کا بھی جائزہ لیا، جنہیں غذائی بحالی پروگرام میں شامل کیا گیا تھا۔
ان میں سے 91 فیصد بچوں میں نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ پایا گیا۔ دسمبر تک 200 بچے پروگرام سے خارج ہو چکے تھے، تاہم ان میں نصف سے بھی کم مکمل صحت یاب ہو سکے، جبکہ 7 فیصد بچوں کی موت واقع ہوئی۔
امدادی مراکز ’فوجی نوعیت‘ کے اور خطرناک قرار
ایم ایس ایف نے کہا کہ بھوک کا شکار صرف نومولود بچے ہی نہیں بلکہ بڑی تعداد میں دیگر شہری بھی غذائی قلت سے متاثر ہو رہے ہیں۔
تنظیم کے مطابق جنوری 2024 سے فروری 2026 تک غزہ میں 15 سال سے کم عمر 4 ہزار 176 بچوں کو شدید غذائی قلت کے پروگراموں میں داخل کیا گیا، جن میں 97 فیصد کی عمر پانچ سال سے کم تھی۔ اسی عرصے میں 3 ہزار 336 حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی علاجی پروگراموں میں شامل کی گئیں۔
رپورٹ میں غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) پر بھی شدید تنقید کی گئی، جو امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے گزشتہ سال قائم کی گئی تھی تاکہ غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی نظام کی جگہ لے سکے۔
ایم ایس ایف کے مطابق مئی 2025 تک غزہ میں خوراک کی تقسیم کے مراکز کی تعداد تقریباً 400 سے کم ہو کر صرف 4 رہ گئی تھی۔
ایم ایس ایف کے ہنگامی یونٹ کے سربراہ جوزے ماس نے ان مراکز کو ’فوجی نوعیت کے اور جان لیوا‘ قرار دیا۔
تنظیم نے کہا کہ جی ایچ ایف کے فعال عرصے کے دوران اس کے زیرِ انتظام طبی مراکز میں ایسے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا جو خوراک کی تقسیم کے مقامات پر تشدد اور بھوک کے باعث علاج کے لیے پہنچے۔
ایم ایس ایف ٹیموں نے اس دوران اسقاطِ حمل کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا۔













