مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں ملازمتوں کی بھرتی کا عمل تیز اور خودکار بنایا ہے وہیں نئی تحقیق اور متاثرہ خواتین کے تجربات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اے آئی پر مبنی بھرتی کے نظام خاص طور پر درمیانی عمر کی خواتین کے لیے روزگار حاصل کرنا مزید مشکل بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
برطانیہ میں فیشن، اشتہارات، صحت، کارپوریٹ اور دیگر شعبوں میں کئی دہائیوں تک اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دینے والی متعدد خواتین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں درخواستیں بھیجنے کے باوجود انہیں یا تو خودکار (آٹومیٹڈ) انکار موصول ہوتا ہے یا پھر کوئی جواب ہی نہیں دیا جاتا۔
52 سالہ اسٹیسی ڈوگیڈ جنہوں نے فیشن انڈسٹری میں طویل عرصہ کام کیا بتاتی ہیں کہ 16 ماہ کے دوران انہوں نے بے شمار ملازمتوں کے لیے درخواستیں دیں مگر انہیں چند خودکار جوابات کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا۔ ان کے مطابق پہلے انہیں کبھی نوکری حاصل کرنے میں مشکل پیش نہیں آئی تھی۔
اسٹیسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر اور پرانے تجربات کے کئی حصے سی وی سے ہٹا دیے تاکہ وہ کم عمر دکھائی دیں۔ وہ اسے مزاحیہ انداز میں اپنی سی وی کو ’بوٹوکس‘ دینا قرار دیتی ہیں۔
400 سے زائد درخواستیں مگر نوکری نہیں
49 سالہ کویلی جالوکا جو مختلف اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر کام کر چکی ہیں کہتی ہیں کہ ملازمت ختم ہونے کے بعد وہ 442 ملازمتوں کے لیے درخواست دے چکی ہیں لیکن صرف چند جگہوں سے جواب ملا۔
ان کے مطابق بعض اداروں نے انہیں ضرورت سے زیادہ تجربہ کار قرار دیا جسے وہ دراصل عمر کی بنیاد پر امتیاز کا ایک نرم انداز سمجھتی ہیں۔
اسی طرح 52 سالہ اینا کووی جنہوں نے اشتہارات کے شعبے میں تقریباً 30 سال کام کیا گزشتہ 4 برس سے بے روزگار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بے شمار سی وی بھیجنے کے باوجود وہ اب سرکاری بے روزگاری الاؤنس پر گزارا کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف اے آئی نہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ صرف اے آئی نہیں بلکہ سخت بھرتی کے معیار، بجٹ میں کمی اور خودکار فلٹرنگ سسٹمز بھی ہیں تاہم اے آئی ان مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: ’اب ہم جیسوں کا کیا بنے گا‘، معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ اے آئی سے خوفزدہ
لندن کی ویمن پیوٹنگ ٹو ڈیجیٹل ٹاسک فورس کی سربراہ کیرولین ہینز کے مطابق اے آئی پر مبنی اسکریننگ سسٹمز اکثر ان خواتین کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر نہیں پہچان پاتے جنہوں نے بچوں کی دیکھ بھال یا دیگر خاندانی ذمہ داریوں کے باعث کچھ عرصہ ملازمت سے وقفہ لیا ہو۔
ان کے مطابق اگر ان خواتین کو دوبارہ روزگار میں شامل نہ کیا گیا تو معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
قانونی اور اخلاقی خدشات
اے آئی قوانین کی ماہر لورا ہولڈن کا کہنا ہے کہ بہت سی کمپنیاں خود بھی نہیں جانتیں کہ ان کے استعمال میں آنے والے اے آئی ٹولز کس بنیاد پر امیدواروں کو مسترد یا منتخب کرتے ہیں۔
ان کے مطابق بعض سسٹمز امیدواروں کی سی وی کو درجہ بندی (گریڈنگ) دیتے ہیں جبکہ کئی ٹولز ملازمت میں طویل وقفے کو منفی عنصر کے طور پر ظاہر کرتے ہیں جس سے بھرتی کے فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر ایلینر ڈریج بھی سمجھتی ہیں کہ انسانی بھرتی کنندگان کے مقابلے میں اے آئی کسی امیدوار کی شخصیت، صلاحیت یا زندگی کے تجربات کا درست اندازہ نہیں لگا سکتا خصوصاً ایسی خواتین کا جنہوں نے خاندانی ذمہ داریوں کے باعث کچھ عرصہ ملازمت سے وقفہ لیا ہو۔
کمپنیاں کیا کہتی ہیں؟
اے آئی پر مبنی ہیومن ریسورس سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ورک ڈے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اے آئی ٹولز عمر یا جنس جیسے عوامل کو مدنظر نہیں رکھتے اور صرف امیدواروں کی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر سفارشات دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
کمپنی کے مطابق اس کا نظام بھرتی کا حتمی فیصلہ نہیں کرتا بلکہ صرف بھرتی کرنے والوں کی معاونت کرتا ہے جبکہ اس کے اے آئی ماڈلز کو ذمہ دارانہ استعمال کے تحت باقاعدہ جانچا جاتا ہے۔
حکومت کا مؤقف
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی بڑی تعداد میں ملازمت کی درخواستوں کو سنبھالنے میں مدد دیتا ہے تاہم بھرتی کا عمل ہر صورت منصفانہ، شفاف اور سب کے لیے قابل رسائی ہونا چاہیے۔
حکومت کے مطابق موجودہ مساوات اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین اے آئی سسٹمز پر بھی لاگو ہوتے ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر مزید قانونی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی بھرتی کے عمل کا اہم حصہ ضرور بنے گا لیکن اس کے استعمال کے ساتھ مضبوط نگرانی، شفافیت اور غیر جانبدارانہ جانچ بھی ناگزیر ہوگی تاکہ عمر یا جنس کی بنیاد پر کسی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
اگرچہ پاکستان میں اے آئی پر مبنی بھرتی کے نظام کا استعمال ابھی محدود ہے تاہم بڑی نجی اور بین الاقوامی کمپنیوں میں ایسے ٹولز بتدریج متعارف ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وکلا اور اکاؤنٹنٹس کی ملازمتیں شدید خطرے میں: مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ کا انتباہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان سسٹمز کی شفاف نگرانی اور جانچ نہ کی گئی تو مستقبل میں پاکستانی ملازمت کے خواہش مند افراد خصوصاً خواتین اور کیریئر میں وقفہ لینے والے امیدوار بھی اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔














