امریکی ویزا پالیسی میں نئی تبدیلی، غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کا فیصلہ

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے غیر ملکی صحافیوں کے ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ویزا قوانین پر عمل درآمد اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات کا جائزہ لینا بتایا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’آن لائن موجودگی کی جانچ‘ کے ذریعے درخواست گزاروں کی اہلیت کا تعین کیا جاتا ہے، تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ عمل اب غیر ملکی میڈیا نمائندوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا اسکریننگ کا دائرہ وسیع

امریکی میڈیا ادارے ’دی ڈیلی سگنل‘ نے ایک داخلی یادداشت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مختلف ویزا اقسام کے لیے درخواست گزاروں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس عوامی رکھنے اور ان کی جانچ کی پالیسی کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ویزا بانڈ پالیسی کا دائرہ مزید وسیع، وینزویلا سمیت 25 نئے ممالک فہرست میں شامل

رپورٹ کے مطابق کینیڈا اور میکسیکو کے شہریوں کے لیے مخصوص ورک ویزا درخواست گزار بھی اس نئے دائرہ کار میں شامل کیے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کے سرکاری ایکس اکاؤنٹس سے مذکورہ رپورٹ کا لنک شیئر کیا گیا، تاہم محکمہ خارجہ نے داخلی دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے پالیسی کی مکمل تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔

محکمہ خارجہ کا مؤقف

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا میں داخلے کے خواہشمند ہر غیر ملکی شہری کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ امریکی قوانین کا احترام کریں، ویزا شرائط کی پابندی کریں اور قومی سلامتی، عوامی تحفظ یا امریکی مفادات کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

مزید پڑھیں:امریکا کی ایچ ون بی نئی ویزا پالیسی، کونسے ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

ترجمان کے مطابق امریکی افسران مختلف ذرائع اور طریقہ کار استعمال کرتے ہیں تاکہ درخواست گزاروں کے بارے میں باخبر فیصلے کیے جا سکیں، فراڈ کی روک تھام ہو اور ویزا درخواستوں کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

پالیسی پر آزادی اظہار کے خدشات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی پالیسی کے نفاذ کی حتمی تاریخ واضح نہیں ہے، تاہم یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن اور ویزا فیصلوں میں آن لائن سرگرمیوں کو اہمیت دینے کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس پالیسی پر انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے حامی حلقوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا مواد کو ویزا فیصلوں سے جوڑنے سے اظہار رائے کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے گزشتہ ماہ غیر ملکی صحافیوں، طلبہ اور دیگر ویزا ہولڈرز کے قیام کی مدت سے متعلق قواعد سخت کیے تھے۔

مزید پڑھیں:امریکا کے نئے ویزا قوانین: کن ممالک کو 20 ہزار ڈالر جمع کرانے ہوں گے، پاکستان کا کیا بنا؟

اس کے علاوہ امریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے بھی اعلان کیا تھا کہ تارکین وطن اور ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا پوسٹس کی جانچ کی جائے گی، خاص طور پر ایسے مواد کی جو حکام کے مطابق ‘امریکی اقدار کے خلاف’ یا نفرت انگیز سمجھی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ عرصے میں بعض غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے، جن پر فلسطین کے حق میں سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔

اکتوبر 2025 میں محکمہ خارجہ نے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل سے متعلق تبصروں پر 6 غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آٹے کی قیمتوں میں پھر اضافہ، 20 کلو تھیلا 3 ہزار روپے سے تجاوز کرگیا

قومی ٹیم میں مسلسل نظر انداز کیے جانے پر مایوسی، خوشدل شاہ نے کرکٹ چھوڑنے کا عندیہ دے دیا

’یو ٹو کنگنا‘: جین زی ’گٹر جنریشن‘ سے ملک کی اہم طاقت قرار، بھارتی اداکارہ و سیاستدان کا بڑا یوٹرن

لاہور : مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج، حکومتی پالیسیوں کی واپسی کا مطالبہ

ریاستی ووٹر فہرستوں پر وفاقی کنٹرول کی کوشش پھر ناکام، ٹرمپ انتظامیہ کوعدالت میں مسلسل 21 ویں شکست

ویڈیو

’۔۔۔ ایک دستخط‘: تجارتی خسارے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزر لینڈ کو دھمکی دے دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟