پاکستان نیوی کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) آصف سندھیلہ نے کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کسی سرکاری عہدے یا منصب کے بجائے تعلیم کے شعبے میں کام کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک قوموں کی ترقی کا حقیقی راستہ معیاری تعلیم اور ہنر مند نوجوانوں کی تیاری ہے۔
’وی نیوز‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں سے تعلق ہونے کی وجہ سے وہ وہاں کے تعلیمی مسائل سے بخوبی آگاہ تھے۔ اسی احساس نے انہیں سرکاری اسکولوں کے ذریعے بچوں، خصوصاً دیہی علاقوں کی بچیوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرنے کی طرف راغب کیا۔
مزید پڑھیں: موبائل لائبریریوں کے ذریعے تعلیم کا فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے کا مشن
ایڈمرل ریٹائرڈ آصف سندھیلہ نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اب کوئی عہدہ نہیں لینا اور صرف لوگوں کی خدمت کرنی ہے، اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ’معاون فاؤنڈیشن‘ بنائی جو اب پاکستان بھر میں سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔
’ڈگری کافی نہیں، عملی مہارت بھی ضروری ہے‘
انہوں نے کہاکہ ’معاون فاؤنڈیشن‘ کا مقصد حکومت، اساتذہ، والدین اور طلبہ کے ساتھ مل کر سرکاری اسکولوں میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کا معیار بہتر بنانا، بچوں کو ہنر سکھانا اور انہیں اچھا انسان بننے کی تربیت دینا ہے۔
ان کے مطابق صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ عملی مہارت بھی ضروری ہے تاکہ نوجوان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
ایڈمرل (ر) آصف سندھیلہ نے کہاکہ فاؤنڈیشن اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں 343 سرکاری اسکولوں کے ساتھ کام کررہی ہے، جن میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، اسلام آباد اور بلوچستان شامل ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے محدود وسائل میں زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔
’نوجوانوں کی مختلف شعبوں میں عملی تربیت‘
انہوں نے کہاکہ فاؤنڈیشن نے اسکل ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دی ہے، جہاں سلائی کڑھائی، بیوٹیشن، ڈیجیٹل مہارتوں اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں، خصوصاً بچیوں کو روزگار کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں خواتین کو خشک پھل تیار کرنے اور ویلیو ایڈیشن کی تربیت دے کر ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 3 ہزار 247 نوجوان ہنر حاصل کرکے عملی کام شروع کر چکے ہیں، جن میں 76 فیصد خود روزگار سے وابستہ ہیں جبکہ 88 فیصد مستفید ہونے والی لڑکیاں ہیں۔
پاک بحریہ کے سابق سربراہ نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی مسائل میں اساتذہ کی کمی، تربیت کا فقدان اور معیاری تدریس شامل ہیں۔ ان کے بقول انگریزی زبان کی تعلیم کے ساتھ تصوراتی (Conceptual) تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید تدریسی طریقوں، ویڈیو اسباق اور ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔
’فنڈز کی کمی نہیں، لوگ شفافیت چاہتے ہیں‘
میران شاہ میں فاؤنڈیشن کے ایک منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک بند ہونے کے قریب گرلز اسکول کو مقامی تعاون سے فعال کیا گیا۔ ابتدائی طور پر جہاں صرف 40 سے 50 طالبات زیر تعلیم تھیں، وہاں آج 600 سے زیادہ بچیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں: موبائل لائبریریوں کے ذریعے تعلیم کا فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے کا مشن
فنڈ ریزنگ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اگر کام شفاف اور نتیجہ خیز ہو تو ملک کے اندر اور بیرون ملک پاکستانی بھرپور تعاون کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متعدد مخیر افراد نے اساتذہ کی تربیت، ٹیکنالوجی اور اسکولوں میں پانی سمیت مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی ہے۔













