میٹا کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، یہ دوسرے ماڈلز کیسے مختلف ہے؟

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے نیا اوپن ویٹ مصنوعی ذہانت ماڈل Muse Glimmer متعارف کرا دیا ہے، جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے امریکا پر زور دیا ہے کہ چین کے ساتھ اے آئی کی عالمی دوڑ میں مؤثر مقابلے کے لیے اوپن ویٹ اور اوپن سورس مصنوعی ذہانت کی راہ میں موجود رکاوٹیں کم کی جائیں۔

میٹا کے مطابق Muse Glimmer جدید حریف اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا ہے، تاہم اسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گرافکس کارڈ والے میک یا پی سی پر اے آئی ایجنٹ کے مختلف کام انجام دے سکے۔ اس ماڈل کا مقصد ایسے اے آئی نظام کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہے جو کلاؤڈ سرورز کے بجائے براہِ راست صارفین کے ذاتی آلات پر چل سکیں۔

مارک زکربرگ نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل مضمون ‘The Future is for Everyone’ کے ساتھ جاری کی گئی ویڈیو میں کہا کہ میٹا مزید بڑے اے آئی ماڈلز بھی جلد متعارف کرائے گی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی طاقت چند اداروں یا افراد تک محدود رکھنے کے تصور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کو محفوظ رکھنے کے نام پر طاقت کا انتہائی ارتکاز خود ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔

زکربرگ کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کاروباری ادارے جدید اے آئی ماڈلز کے بڑھتے اخراجات اور حالیہ سائبر سیکیورٹی واقعات کے باعث بند یا محدود ماڈلز کے استعمال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اوپن ویٹ ماڈلز کی بڑھتی مقبولیت

اوپن ویٹ ماڈلز عموماً اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے اداروں کے جدید ترین ماڈلز کے مقابلے میں کم لاگت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے بنیادی اجزا صارفین اور اداروں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہوتے ہیں۔ اس کے باعث انہیں مختلف ضروریات کے مطابق تبدیل اور بہتر بنایا جاسکتا ہے، جبکہ بند ماڈلز کے بنیادی اجزا متعلقہ کمپنیوں کے کنٹرول میں رہتے ہیں۔

چین کی متعدد ٹیکنالوجی کمپنیاں اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ مون شاٹ کا Kimi K3، علی بابا کا Qwen3.8-Max اور DeepSeek V4-Flash کارکردگی کے اعتبار سے امریکا کے جدید اے آئی نظاموں کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل سمیت بڑی امریکی کمپنیاں اپنے جدید ترین ماڈلز کے بنیادی وزن عام طور پر عوامی طور پر دستیاب نہیں کرتیں۔

میٹا نے اپنے زیادہ جدید اے آئی ماڈل Muse Spark 1.2 کے وزن بھی جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ ماڈل کمپنی کی گزشتہ سال قائم کردہ ’سپر انٹیلی جنس‘ ٹیم نے تیار کیا ہے، جس کا مقصد اے آئی کی دوڑ میں میٹا کی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔

ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک ارب ڈالر کا فنڈ

زکربرگ نے اے آئی انفراسٹرکچر کی توسیع سے متاثر ہونے والی امریکی کمیونٹیز کے خدشات دور کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کے نئے فنڈ کا بھی اعلان کیا۔ امریکا میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو مقامی سطح پر بڑھتی مخالفت کا سامنا ہے اور یہ معاملہ اب سیاسی و انتخابی بحث کا بھی حصہ بن چکا ہے۔

زکربرگ کے مطابق چین کے مقابلے میں امریکا کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہاں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا زیادہ مشکل ہے۔ میٹا رواں سال اے آئی انفراسٹرکچر پر 145 ارب ڈالر تک خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

انہوں نے امریکی حکومت سے اے آئی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا کے استعمال اور ’ڈسٹلیشن‘ جیسے شعبوں میں موجود پابندیوں کو کم کیا جانا چاہیے۔ ڈسٹلیشن ایک ایسا طریقہ ہے جس میں طاقتور اے آئی ماڈل کے نتائج سے ایک چھوٹے ماڈل کو تربیت دی جاتی ہے، جو کم کمپیوٹنگ طاقت کے ساتھ بعض ملتے جلتے کام انجام دے سکتا ہے۔

زکربرگ نے کہا کہ اگر امریکا اپنے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز کو عالمی سطح پر آگے لے جانا چاہتا ہے تو پالیسیوں میں موجود اضافی رکاوٹیں کم کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق غیر ملکی اوپن سورس ماڈلز تک رسائی محدود کرنا اس مسئلے کا مؤثر حل نہیں۔

میٹا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ایسا انتظامی ڈھانچہ قائم کرے گی جس کے تحت کمپنی کے آزاد ڈائریکٹرز کو نئے اے آئی ماڈلز جاری کرنے سے قبل ان کے حفاظتی معیار کی منظوری دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ادھر امریکی انتظامیہ نے رواں ماہ اے آئی ڈویلپرز کو آگاہ کیا تھا کہ حکومت اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز کو رضاکارانہ حفاظتی ٹیسٹ کے عمل سے نہیں گزارے گی۔ معاملے سے واقف دو ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے یہ مؤقف اے آئی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ حالیہ بات چیت میں واضح کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp