پاکستانی اداکارہ صنم سعید نے ساتھی اداکارہ درِ فشاں سلیم کو ان کے نئے ڈرامے ’درِ نجات‘ میں انگریزی لہجے کے باعث ہونے والی ٹرولنگ کا دفاع کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کے رویے کو ’انتہائی نامناسب‘ قرار دے دیا۔
گزشتہ چند ہفتوں سے درِ فشاں سلیم کے ڈرامہ ’درِ نجات‘ میں انگریزی بولنے کے انداز اور لہجے پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے جہاں متعدد صارفین نے اداکارہ کے لہجے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: شکل و صورت پر تنقید کا سامنا؟ صنم سعید کا ناقدین کو کرارا جواب
درِ فشاں سلیم ڈرامے میں زریاب نامی ایک خوشحال خاندان کی تعلیم یافتہ اور آزاد خیال بیٹی کا کردار ادا کر رہی ہیں جو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے امریکا جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کردار کی مناسبت سے وہ ڈرامے میں اپنی بہن، دوستوں اور بوائے فرینڈ کے ساتھ زیادہ تر انگریزی میں گفتگو کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
تاہم ناظرین کی ایک بڑی تعداد نے ان کے انگریزی لہجے کو کردار کے مطابق نہ ہونے پر اعتراض کیا جس کے بعد اداکارہ کو سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: صنم سعید نے 5 مختلف لہجوں میں بات کرکے سب کو حیران کردیا
صنم سعید نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے درِ فشاں سلیم کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی اداکار کے لہجے کو لے کر اس حد تک جنون میں مبتلا ہونا ’انتہائی فضول‘ ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ درِ فشاں سلیم کو جس انداز میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر تنقید اور تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ ’انتہائی بے رحمانہ اور دوسروں کے جذبات کا خیال نہ رکھنے والا رویہ‘ ہے۔
صنم سعید کے مطابق کسی اداکار کی کارکردگی پر تنقید کرنا ناظرین کا حق ہے تاہم تنقید اور ذاتی تضحیک کے درمیان فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر مردانگی کے تصور پر کھل کر بول پڑیں
انہوں نے درِ فشاں سلیم کے لہجے کو موضوع بنا کر مسلسل تنقید کرنے کے عمل کو ’پریشان کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی فنکار کے ایک پہلو کو بنیاد بنا کر اسے مسلسل نشانہ بنانا مناسب نہیں۔













