پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں باراتیوں کو لے جانے والا تیز رفتار لوڈر رکشہ مظفرگڑھ کینال میں جا گرا، حادثے کے نتیجے میں 6 کم سن بچوں سمیت کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔
حادثہ پیر کی شب اس وقت پیش آیا جب قریبی گاؤں میں شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد باراتیوں کو لے جانے والا لوڈر رکشہ مظفرگڑھ کینال میں جا گرا۔
پیر کے روز 3 لوڈر رکشوں پر مشتمل بارات کوٹ ادو کے علاقے لومڑ والا سے بستی آرائیں جارہی تھی کہ تیز رفتاری کے باعث ایک لوڈر رکشہ بے قابو ہوکر سنانواں میں شیخو شوگر ملز کے قریب مظفرگڑھ کینال میں جاگرا۔
حادثے کے بعد 3 افراد اپنی مدد آپ کے تحت نہر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جس کے بعد مقامی افراد اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے امدادی کارروائی شروع کردی۔
امدادی کارروائی کے دوران 6 افراد کو زندہ نہر سے نکال لیا گیا جبکہ 3 افراد کی لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔
مزید 9 لاشیں برآمد
منگل کو بھی امدادی کارروائی جاری رہی اور کوٹ ادو ریسکیو کے انچارج اسامہ ذیشان کے مطابق نہر سے مزید 9 لاشیں برآمد کی گئیں، جس کے بعد حادثے میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 12 ہوگئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے وقت لوڈر رکشے میں مجموعی طور پر 24 افراد سوار تھے جبکہ نہر میں گرنے والے دیگر افراد کی تلاش کے لیے آپریشن تاحال جاری ہے۔
ریسکیو انچارج اسامہ ذیشان نے بتایا کہ امدادی کارروائی میں کوٹ ادو اور مظفرگڑھ اضلاع سے 8 غوطہ خور اور 22 تیراک حصہ لے رہے ہیں، جبکہ مقامی افراد بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کے مقام سے 5، 7، 15 اور 20 کلومیٹر دور سے بھی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے نہر کے 32 کلومیٹر طویل حصے میں سرچ آپریشن کیا ہے۔
نہر کی گہرائی 15 فٹ تک ہے
ریسکیو حکام کے مطابق مظفرگڑھ کینال کی گہرائی 12 سے 15 فٹ جبکہ چوڑائی 100 سے 120 فٹ تک ہے۔ نہر میں پانی کا بہاؤ 2 ہزار 500 سے 4 ہزار کیوسک کے درمیان ہے۔
یہ نہر کوٹ ادو اور مظفرگڑھ کے علاقوں میں قریباً 8 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرتی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال پنجاب کے ضلع لودھراں میں بھی باراتیوں کو لے جانے والی بس الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے تھے۔













