فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ ٹیکس شرح میں کمی کے باعث پاکستان سے سرمایہ کاری کا انخلا نہیں ہوگا، جبکہ حکومت آئندہ برسوں میں ٹیکسز میں مزید کمی کی کوشش کرے گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت ہوا، جس میں ملک میں بھاری ٹیکسز کے باعث ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان چھوڑنے کے معاملے سمیت ٹیکس پالیسی اور اصلاحات سے متعلق مختلف امور پر ایف بی آر حکام سے بریفنگ لی گئی۔
ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس میں کمی
ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایکسپورٹرز پر ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم کی جانب سے ایکسپورٹرز کو 80 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف بھی دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف پیکیج دیا گیا ہے۔ کاروباری برادری کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران کوئی گرفتاری یا ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، جبکہ کاروباری برادری کی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔
کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ٹیکس ادا کرنے والے افراد آڈٹ سے بچ سکتے ہیں، جبکہ ٹیکس فائلرز کو اپنے جمع کرائے گئے گوشواروں پر نظرثانی کا اختیار بھی فراہم کیا گیا ہے۔
’2022 کے بحران کے بعد ٹیکسز میں اضافہ ہوا‘
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 2022 کے بحران کے بعد ملک میں ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا تھا اور اس عرصے کے دوران بعض فارن ایکسچینج پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔
حکام کے مطابق 2022 کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے گئے اور ٹیکس پالیسی میں بھی مختلف تبدیلیاں لائی گئیں۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اصلاحات کے عمل میں سب سے پہلے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز میں کمی کی گئی۔ حکومت نے حال ہی میں سپر ٹیکس بھی ختم اور کم کیا ہے، جس کے نتیجے میں سپر ٹیکس کی مد میں 55 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نان بینکنگ کمپنیوں پر اب 29 فیصد ٹیکس عائد ہے، جبکہ رواں سال فیس لیس ٹیکس سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
سیکریٹری خزانہ کی عدم شرکت پر طلحہ محمود برہم
اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے سیکریٹری خزانہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جس پر ان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ کی اجلاس میں عدم شرکت کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔
طلحہ محمود نے واضح کیا کہ وہ ایف بی آر میں اصلاحات کے خواہاں ہیں اور ملک کی ٹیکس پالیسی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔












