افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان مخالف کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں مقامی کمانڈر جمعہ خان فتح نے اپنے جنگجوؤں کو لڑائی شروع کرنے اور مقامی آبادی کو بھی مزاحمت کے لیے اٹھ کھڑے ہونے پر زور دیا ہے۔
بدھ کو درواز میں جھڑپوں، طالبان اہلکاروں کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے بعد فیض آباد میں راکٹ حملے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
جمعہ خان فتح کا جنگجوؤں اور عوام سے مزاحمت کا مطالبہ
صوبہ بدخشاں سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری خبروں کے مطابق جمعہ خان فتح نے نیسی سے جاری مبینہ آڈیو پیغامات میں اپنے مسلح ساتھیوں کو بتایا کہ طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوچکی ہیں اور انہیں لڑائی کا آغاز کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت کے پانچ سال، صحافت پر کریک ڈاؤن، سنسرشپ، خاموشی اور اطلاعات پر کنٹرول
ایک الگ پیغام میں انہوں نے مقامی لوگوں کو بھی مزاحمت کے لیے متحرک ہونے کی اپیل کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وہ خود قدم نہیں اٹھائیں گے تو پھر ظلم کے خلاف آواز کیسے بلند کر سکیں گے۔
#BREAKING: Juma Khan Fateh, disgruntled commander of Taliban in Badakhshan, ordered fighting against the Taliban. The fighting between Fatheh fighters and the Taliban began yesterday in Nesai district of Badakhshan province, casualties reported. pic.twitter.com/H93rpf7lRe
— Tajuden Soroush (@TajudenSoroush) August 12, 2026
ان بیانات کو فتح کی جانب سے طالبان کے خلاف کھلی مسلح مزاحمت کی اب تک کی سخت ترین اپیلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تاہم ان آڈیو ریکارڈنگز اور تازہ جھڑپوں میں ہونے والی ہلاکتوں و گرفتاریوں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوسکی۔
درواز میں جھڑپیں، طالبان اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات
رپورٹس کے مطابق منگل کو درواز ضلع کے قوغاز گاؤں میں مصطفیٰ نامی ایک شخص پر طالبان اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ کے بعد صورتحال نے شدت اختیار کی اور فتح کے حامی جنگجوؤں اور طالبان فورسز کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
مقامی اطلاعات کے مطابق طالبان کے خصوصی یونٹ کے 4 زخمی اہلکار اور 2 ہلاک اہلکاروں کو نُسے کے ایک طبی مرکز منتقل کیا گیا، جبکہ رادوج اور زاغرے کے اطراف میں لڑائی کچھ دیر تک جاری رہی۔
رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ فتح کے جنگجوؤں نے طالبان کے 4 غیر مقامی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
فیض آباد میں راکٹ حملہ، حکومتی دفتر کے قریب فائرنگ
درواز میں لڑائی کے بعد منگل کی شام صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے گورنر کے دفتر کی جانب 2 راکٹ داغے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک راکٹ قریبی عمارت سے ٹکرایا، جس کے بعد تقریباً 10 منٹ تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں طالبان مخالف گروپس کی کارروائیاں تیز، چوکی پر حملہ کرکے اسلحہ پر قبضے کا دعویٰ
اس حملے کی ذمہ داری اور اس میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں طالبان کی جانب سے کوئی قابل اعتماد تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔
بدخشاں میں پہلے ہی بڑھ رہا ہے دباؤ
تازہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بدخشاں میں طالبان قیادت اور مقامی مسلح کمانڈروں کے درمیان اختلافات کئی ہفتوں سے شدت اختیار کیے ہوئے ہیں۔
جون میں جمعہ خان فتح کی جانب سے اپنی فورسز کو الرٹ رکھنے اور درواز کے علاقے میں عسکری سرگرمیاں بڑھانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق طالبان قیادت نے اس دوران فتح کے ساتھ مذاکرات کی کوشش بھی کی۔ جون میں طالبان کے خصوصی وفد سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد بدخشاں پہنچے تھے، جبکہ طالبان چیف آف آرمی اسٹاف فصیح الدین فطرت نے بھی نُسے میں فتح سے ملاقات کی کوشش کی تھی۔
بعد ازاں طالبان کی جانب سے مقامی مسلح افراد کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا۔ جولائی میں نُسے اور شِکَے کے علاقوں میں فتح سے وابستہ سینکڑوں مسلح افراد سے ہتھیار جمع کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جبکہ انکار کی صورت میں طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔
اختلاف صرف اقتدار کا نہیں، معدنی وسائل بھی اہم فریق
بدخشاں میں جاری کشمکش کے پس منظر میں مقامی طاقت، انتظامی اختیار اور قیمتی معدنی وسائل پر کنٹرول کو اہم عوامل قرار دیا جاتا ہے۔
صوبہ سونے، لاجورد اور دیگر معدنی ذخائر سے مالا مال ہے اور کان کنی کے معاملات نے مقامی طالبان کمانڈروں اور مرکزی قیادت کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے اقدامات خلاف شریعت، ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ پر تنقید بھی جرم
جمعہ خان فتح، جو طالبان کے اندر ایک بااثر تاجک کمانڈر کے طور پر سامنے آئے، حالیہ مہینوں میں مرکزی طالبان قیادت کے ساتھ اختلافات کے باعث توجہ کا مرکز بنے ہیں۔ جون میں طالبان کی جانب سے انہیں زابل کے نائب گورنر کے منصب سے ہٹائے جانے کی بھی اطلاع سامنے آئی تھی۔
بدخشاں میں مزاحمت کے کئی محاذ
جمعہ خان فتح کے حامیوں اور طالبان کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ بدخشاں کے دیگر علاقوں میں بھی طالبان مخالف مسلح سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
جولائی میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے زیِبک ضلع میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی مسلح حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان دعوؤں میں بیان کردہ جانی نقصانات کی آزادانہ تصدیق مشکل رہی ہے۔
اس صورتحال نے بدخشاں کو طالبان کے لیے محض ایک مقامی سیکیورٹی مسئلے کے بجائے ایک پیچیدہ سیاسی اور عسکری چیلنج بنا دیا ہے۔ ایک طرف مرکزی قیادت مقامی جنگجوؤں کو غیر مسلح کرکے انتظامی و عسکری اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مقامی کمانڈروں کی طاقت، وسائل پر اختلافات اور مختلف علاقوں میں مسلح مزاحمت اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
کیا بدخشاں طالبان کے لیے نیا فلیش پوائنٹ بن رہا ہے؟
تازہ جھڑپوں اور جمعہ خان فتح کی مبینہ جنگی اپیل نے بدخشاں کی صورتحال کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ اگر مسلح تصادم کا دائرہ درواز اور نُسے سے نکل کر دیگر علاقوں تک پھیلتا ہے تو طالبان کو ایک ہی صوبے میں مقامی مسلح دھڑوں، مخالف مزاحمتی گروہوں اور اپنے ہی سابق مقامی کمانڈروں سے بیک وقت نمٹنے کا چیلنج درپیش ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان کے کن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟
موجودہ حالات میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بدخشاں میں طالبان کی گرفت کمزور ہوچکی ہے، تاہم مسلسل جھڑپیں، مقامی جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں اور مرکزی قیادت کے ساتھ اختلافات اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ صوبے میں طالبان کے لیے مکمل اور مستحکم کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑھتا ہوا چیلنج بن رہا ہے۔














