انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم پیس بلڈرز فورم کا آغاز، آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کا عزم

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غیر سرکاری فلاحی تنظیم انٹر فیتھ لیگ اگینسٹ پاورٹی (آئی لیپ) نے اسلام آباد میں انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم پیس بلڈرز فورم پاکستان کا باضابطہ آغاز کردیا۔

آئی لیپ ایک قومی ادارہ ہے جو مشترکہ انسانیت کی بنیاد پر انسانی حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور مساوات کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔

فورم کا آغاز پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے حوالے سے کیا گیا، جس کے ذریعے مذہبی آزادی، انسانی وقار، مساوی حقوق، پُرامن بقائے باہمی اور اقوام متحدہ کی جانب سے 10 دسمبر 1948 کو منظور کیے گئے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق میں درج اصولوں کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔

فورم کی افتتاحی تقریب میں ارکان پارلیمنٹ، سابق فوجی افسران، حکومتی نمائندگان، سول سوسائٹی کے رہنماؤں، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم، میڈیا پروفیشنلز، کاروباری شخصیات، مذہبی رہنماؤں، نوجوانوں کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سمیت ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

حکومت، پارلیمنٹ اور مذہبی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا عزم

آئی لیپ کے چیئرمین ساجد سندھو نے امریکا سے ورچوئل شرکت کی، جبکہ ان کے ہمراہ امریکا میں انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم سیکریٹریٹ کے بانی، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ چیئرمین گریگ مچل بھی شریک ہوئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ساجد سندھو نے کہاکہ فورم کے ذریعے حکومتی اداروں، ارکان پارلیمنٹ، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی، تعلیمی حلقوں، میڈیا، قانونی ماہرین اور مذہبی برادریوں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائےگا تاکہ مذہبی آزادی اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیا جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 20 پہلے ہی ہر شہری کو اپنے مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق دیتا ہے، جبکہ مذہبی فرقوں اور مسالک کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا حق بھی حاصل ہے۔

ساجد سندھو کے مطابق چیلنج صرف آئینی تحفظات کی عدم موجودگی نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ان حقوق پر قانون، پالیسی اور عملی سطح پر مؤثر اور مستقل انداز میں عملدرآمد ہو، تاکہ ہر شہری بلاخوف اور مساوی طور پر ان حقوق سے مستفید ہوسکے۔

’قانونی و پالیسی خلا کی نشاندہی کی جائے گی‘

فورم کے ذریعے تعمیری مکالمے، تحقیق، پالیسی سازی میں شمولیت اور باہمی تعاون کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جائےگا، جبکہ مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے قانونی و پالیسی سطح پر موجود خلا کی نشاندہی کرکے سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی۔

آئی لیپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نادیہ انصاری نے کہاکہ فورم کا مقصد ایسا جامع قومی ماحول تشکیل دینا ہے جہاں ہر پاکستانی، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا عقیدے سے ہو، قومی ترقی، سماجی انضمام اور پُرامن بقائے باہمی میں بامعنی کردار ادا کرسکے۔

انہوں نے کہاکہ یہ اقدام پاکستان کی مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان باہمی احترام، اعتماد، سمجھ بوجھ اور تعاون کو فروغ دے گا، جبکہ مذہبی نفرت، امتیازی سلوک، تعصب اور عدم برداشت سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں بھی کردار ادا کرے گا۔

نادیہ انصاری نے مزید کہاکہ فورم بامعنی اصلاحات اور آئینی ضمانتوں پر مؤثر عملدرآمد کی حمایت کرےگا اور مذہبی آزادی و انسانی حقوق سے متعلق عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے خدشات کے حل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور

گریگ مچل نے آئی آر ایف پیس بلڈرز فورم کو قیام امن کی کوششوں کو مضبوط بنانے اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔

انہوں نے کہاکہ ایسا ماحول تشکیل دینا ضروری ہے جہاں مذہبی اقلیتوں کو اعتماد ہو کہ ان کے بنیادی حقوق، بالخصوص اپنے مذہب پر عمل اور اس کا اظہار کرنے کے حق کا احترام اور تحفظ کیا جائے گا۔

گریگ مچل کے مطابق پاکستان میں فورم کا آغاز اس بات کا مثبت پیغام ہے کہ مذہبی آزادی کے فروغ اور تحفظ کے لیے حکومتی اداروں اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ لانا ضروری ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے فورم کے آغاز پر نیک خواہشات

وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری ڈاکٹر نیلسن عظیم تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ساجد سندھو، نادیہ انصاری اور آئی لیپ کی پوری ٹیم کو فورم کے آغاز پر مبارکباد پیش کی۔

ڈاکٹر نیلسن عظیم نے مذہبی آزادی کے فروغ اور حکومتی دائرہ کار کے تحت انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے مسلسل خیرسگالی اور حمایت کا اظہار کیا۔

تقریب میں شریک دیگر ممتاز مقررین اور پینلسٹس نے بھی اس بات پر زور دیا کہ شمولیت، بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی اور پُرامن بقائے باہمی پاکستان کے خوشحال مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مذہبی اقلیتوں کے وقار اور حقوق کا تحفظ، جبکہ اکثریتی آبادی کی بنیادی آزادیوں کا بھی تحفظ کیا جانا، قومی یکجہتی، سماجی استحکام اور پائیدار امن کے لیے انتہائی اہم ہے۔

مذہبی آزادی صرف اقلیتوں کا نہیں، ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے

مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، ماہرین تعلیم اور میڈیا پروفیشنلز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی آزادی صرف اقلیتوں سے متعلق معاملہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے۔

انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی احترام، برداشت، ذمہ دارانہ شہریت اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

’ہم تصادم نہیں، تعاون اور دیواریں نہیں پل بنانا چاہتے ہیں‘

اختتامی کلمات میں ساجد سندھو نے تقریب میں شریک تمام شرکا، مقررین، پینلسٹس اور معاونین کا شکریہ ادا کیا اور ایک پُرامن، جامع، منصفانہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے آئی لیپ کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ پائیدار امن کے لیے انصاف، مساوات، مذہبی آزادی اور ہر شہری کے وقار کا احترام ضروری ہے۔

ساجد سندھو نے کہا’ہم تصادم نہیں، تعاون پر یقین رکھتے ہیں، دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے پل بنانے اور تقسیم کے بجائے مکالمے پر یقین رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ پائیدار امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب لوگ اور ادارے باہمی احترام کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوں، ایک دوسرے کی بات سنیں، مشترکہ بنیاد تلاش کریں اور عملی حل کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔

آئی آر ایف پیس بلڈرز فورم پاکستان کے ذریعے آئی لیپ کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، اعتماد پیدا کرنا، تعلقات مضبوط بنانا، مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا اور ایک زیادہ پُرامن، جامع اور خوشحال پاکستان کی تشکیل میں کردار ادا کرنا ہے۔

تقریب کا اختتام آئینی اقدار کو مضبوط بنانے، مذہبی آزادی کے فروغ، بین المذاہب ہم آہنگی کو آگے بڑھانے اور پاکستان کی بہتری کے لیے تعمیری روابط و مکالمے کو فروغ دینے کے اجتماعی عزم کے ساتھ ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp