اسرائیلیوں کے مسیحیوں پر حملے اور ہراسانی کے واقعات 3 گنا بڑھ گئے

ہفتہ 15 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل میں مقیم مسیحی برادری، جو ملک کی کل آبادی کا 2 فیصد سے بھی کم ہے، مذہبی بنیادوں پر بڑھتے ہوئے تعصب، تھوکنے کے واقعات اور پرتشدد حملوں کی وجہ سے شدید خوف اور غیر یقینی کی صورت حال کا شکار ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کی رپورٹ کے مطابق، قدامت پسند یہودی انتہا پسندوں کی جانب سے مسیحی راہباؤں (ننز)، پادریوں اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کیتھولک نَن پر پرتشدد حملہ

رواں برس اپریل میں یروشلم کے قدیم شہر (Old City) میں ایک کیتھولک نَن کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک یہودی بستی (Settlement) سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

واقعے کے بعد سے راہباؤں اور پادریوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔ 20 سال سے زائد عرصے سے یروشلم میں مقیم میکسیکن نَن ’سسٹر مائیلا‘ کا کہنا ہے کہ ’پہلے صرف تھوکا جاتا تھا یا سلام کیا جاتا تھا، لیکن اب ہراساں کیے جانے کے خوف کی وجہ سے ہم ایک یہودی رضاکار کی حفاظت میں سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔‘

ہراسانی کے واقعات میں 3 گنا اضافہ

‘ریلیجئس فریڈم ڈیٹا سینٹر’ کی بانی اور اسرائیلی یہودی کارکن یسکا ہرانی  کے مطابق، یروشلم میں مسیحیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پچھلے چار سالوں کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکے ہیں، اور اب روزانہ اوسطاً ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہو رہا ہے۔ یہ تمام کارروائیاں بنیادی طور پر یہودی مذہبی قوم پرستوں کی طرف سے کی جا رہی ہیں۔

پادری البرٹو پاری کے مطابق، یروشلم کے قدیم شہر کی گلیوں میں مذہبی لباس پہن کر نکلنے پر پادریوں اور راہباؤں پر تھوکنا ایک عام بات بن چکی ہے۔

اسرائیلی فوجیوں کے نازیبا اقدامات

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راہبہ پر حملے کے دوران ہی اسرائیلی فوج کے دو اہلکاروں کے متنازع واقعات سامنے آئے۔ جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران ایک اسرائیلی فوجی نے ایک مسیحی خاندان کے باغ میں صلیب کو توڑ دیا، جبکہ دوسرے فوجی نے حضرت مریمؑ کے مجسمے کے منہ میں سگریٹ ٹھونس دی۔ ان دونوں فوجیوں کو بعد میں فوجی جیل کی سزا سنائی گئی۔

غزہ جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی پولرائزیشن

7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ نے اسرائیل کے اندر مذہبی تفریق اور شدت پسندی میں اضافہ کیا ہے۔ یروشلم کے قدیم شہر میں، جہاں دیوارِ گریہ، کنیسۃ القیامہ (Church of the Holy Sepulchre) اور مسجدِ اقصی بالکل قریب قریب واقع ہیں، مذہبی کشیدگی عروج پر ہے۔

مسیحی آبادی کا انخلا

مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص مقدس سرزمین (Holy Land) میں سیکیورٹی کے بگڑتے حالات، مسلسل اقتصادی دباؤ اور مذہبی ہراسانی کی وجہ سےمقامی عرب مسیحی تیزی سے یورپ اور امریکا کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، جس سے اس تاریخی خطے میں مسیحی برادری کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp