حکومت کا تعمیراتی شعبے کی مزید ترقی کے لیے جامع ڈیولپمنٹ پیکیج پر غور

ہفتہ 15 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے تعمیراتی شعبے کی مزید ترقی اور صنعت کی مکمل بحالی کے لیے جامع ڈیولپمنٹ پیکیج پر غور شروع کردیا ہے، جس میں اہم ریگولیٹری، آپریشنل اور مالیاتی اصلاحات شامل ہوں گی۔

اس حوالے سے قومی تعمیراتی شعبے میں اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن (ر) محمود، مینیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا)، کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ) کی قیادت اور نمائندگان سمیت دیگر سینیئر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کی تجویز

اجلاس کو بتایا گیا کہ صنعت کی مکمل بحالی کے وسیع تر وژن کے تحت حکومت تعمیراتی صنعت کے لیے ایک جامع ڈیولپمنٹ پیکیج پر غور کر رہی ہے، جس میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ (سی آئی ڈی بی) کا قیام، ایک مخصوص کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک (سی ڈی بی) کی افادیت کا جائزہ، درآمدی و برآمدی پالیسیوں کو معقول بنانا اور تعمیراتی شعبے کے لیے ہدف شدہ ٹیکس اصلاحات شامل ہیں۔

تفصیلی مشاورت کے دوران وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہاکہ مجوزہ سی آئی ڈی بی دوہرا کردار ادا کرے گا۔ ایک جانب یہ تعمیراتی شعبے کی مجموعی ترقی کا فریضہ انجام دے گا جبکہ دوسری جانب صنعت کے معیارات، ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹس کی نگرانی کا ریگولیٹری کردار بھی ادا کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل یہ بورڈ قومی معیار کو بلند کرنے کے لیے ایک متفقہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔

وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ اس ادارے کی اشد ضرورت پر وفاقی حکومت اور کیپ کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ وفاقی حکومت حتمی منظوری کے لیے اس کا فریم ورک باضابطہ طور پر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

ٹیکس مراعات اور درآمدی، برآمدی پالیسیوں میں ہم آہنگی

ان کا کہنا تھا کہ زیر غور وسیع تر ڈیولپمنٹ پیکیج کا مقصد مالیاتی اور پالیسی سے متعلق رکاوٹوں کو مخصوص ٹیکس مراعات اور ہم آہنگ درآمدی و برآمدی پالیسیوں کے ذریعے دور کرنا ہے، تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے اور مقامی تعمیراتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔

سرکاری منصوبوں کے ڈیفیکٹ لائبیلٹی پیریڈ میں اضافہ

عوامی انفراسٹرکچر کی طویل المدتی پائیداری اور ساخت کی مضبوطی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے معیاری ڈیفیکٹ لائبیلٹی پیریڈ (ڈی ایل پی) ایک سال سے بڑھا کر 3 سال کرےگی۔

انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں ڈی ایل پی کو مزید 5 سال تک بڑھانے کا واضح روڈ میپ بھی موجود ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ شہری انفراسٹرکچر کو مکمل ہونے کے فوراً بعد خراب نہیں ہونا چاہیے۔ ڈیفیکٹ لائبیلٹی پیریڈ بڑھانے سے ٹھیکیدار اور انتظامی ادارے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے اور قبل از وقت خرابیوں کو روکنے پر مجبور ہوں گے۔

کنسلٹنٹس کو بھی قانونی اور مالی طور پر جوابدہ بنانے کی تجویز

جوابدہی کے موجودہ نظام میں اہم خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سینیٹر احد چیمہ نے کہاکہ اگرچہ معاہدے کی خلاف ورزی یا خراب کارکردگی پر ٹھیکیداروں کے لیے سزائیں موجود ہیں، تاہم کنسلٹنٹس کے لیے کوئی قانونی فریم ورک یا جرمانے کا میکانزم موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ سی آئی ڈی بی کے نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کنسلٹنٹس کو بھی براہِ راست نگرانی کے دائرے میں لایا جائے گا تاکہ ڈیزائن کی خامیوں یا فنی غلطیوں پر انہیں قانونی اور مالی طور پر جوابدہ بنایا جا سکے۔

کیپ کے نمائندوں نے اس موقف کی مکمل توثیق کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ ڈیزائن کی درستگی یقینی بنانے اور عوامی سرمائے کے تحفظ کے لیے کنسلٹنٹس کا ریگولیٹری احتساب انتہائی ضروری ہے۔

کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام پر اسٹیٹ بینک اور پی بی اے سے مشاورت

مالیاتی اور پرفارمنس ضمانتوں کے حصول میں بینکنگ کی دشواریوں کے حوالے سے کیپ نمائندوں کی تجاویز اور ایک مخصوص کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کی درخواست پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کو ہدایت کی کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ باضابطہ اور تفصیلی بات چیت کا آغاز کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مخصوص سی ڈی بی کے قیام کا کوئی بھی فیصلہ اسٹیٹ بینک اور پی بی اے کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلی فیڈ بیک اور مالیاتی فیزیبلٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

عوامی فنڈز قومی امانت ہیں، احد چیمہ

وفاقی وزیر احد چیمہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی بنیادی توجہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر عوامی انفراسٹرکچر کا منصوبہ لاگت کے لحاظ سے مؤثر اور انتہائی پائیدار ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ عوامی فنڈز ایک قومی امانت ہیں جنہیں ناقص کارکردگی یا غلط تکنیکی ڈیزائن کی وجہ سے ضائع نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

احد چیمہ نے کہاکہ ترقیاتی اور ریگولیٹری دونوں کردار ادا کرنے والا ایک آزاد بورڈ احتساب کو نافذ کرے گا، تنازعات کے حل کو ہموار بنائے گا اور قومی تعمیراتی معیارات کو بین الاقوامی سطح تک بلند کرےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp