اسلام آباد میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام ’کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہییں؟‘ کے موضوع پر قومی مباحثہ ہوا، جس میں ماہرین اور مقررین نے ملکی ترقی، گورننس کی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔
مباحثے میں شرکا نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کے باعث عوام کو بنیادی سہولیات اور مسائل کے فوری حل کے لیے مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے بااختیار اور مؤثر بلدیاتی نظام کے ساتھ انتظامی یونٹس کی ازسرنو تشکیل پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود نے ملک کے مالیاتی اور انتظامی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کے باعث اسے این ایف سی ایوارڈ کے تحت زیادہ وسائل ملتے ہیں، تاہم این ایف سی پر عمل درآمد کے باوجود تنقید کا سامنا بھی پنجاب ہی کو کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم
میاں عامر محمود نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کسی علاقے کی تقسیم نہیں بلکہ عوام کی فلاح، بہبود اور حقوق کے تحفظ کے لیے کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں عوام کی حقیقی معنوں میں فلاح ممکن نہیں ہو رہی، اس لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں نئے صوبے قائم ہوتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا، جبکہ سندھ دوسرے نمبر پر ہوگا اور پنجاب کو اس حوالے سے سب سے بعد میں فائدہ پہنچے گا۔
میاں عامر محمود نے سیاست دانوں پر زور دیا کہ اداروں کے احتساب تک محدود رہنے کے بجائے عوامی نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کی جائے۔
مباحثے کے اختتام پر شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر مؤثر گورننس اور عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں، جبکہ نئے انتظامی فریم ورک پر قومی سطح پر سنجیدہ اور بامعنی بحث کی ضرورت ہے۔













