نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

اتوار 16 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام ’کیا پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہییں؟‘ کے موضوع پر قومی مباحثے میں ماہرین، سیاست دانوں، دانشوروں اور پالیسی سازوں نے ملک میں بہتر گورننس، مؤثر عوامی خدمات اور شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیا۔

مباحثے میں مقررین نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل محض مالی نوعیت کے نہیں بلکہ انتظامی بھی ہیں، اس لیے حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔ شرکا نے واضح کیا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانا محض جغرافیائی تقسیم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور حکومتی اداروں تک ان کی رسائی آسان بنانا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم

دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، پاکستان کی بنیاد عوام کی فلاح پر ہے اور ہر خطے کی انتظامی ترجیح شہریوں کی بہبود اور مفادات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت اسے زیادہ وسائل ملتے ہیں۔ ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد کے باوجود وسائل کی تقسیم کے معاملے میں پنجاب کو مسلسل تنقید کا سامنا رہتا ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ عوام سیاست دانوں کا زیادہ مؤثر احتساب کرسکتے ہیں، اس لیے انتظامی ڈھانچے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر قومی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق مقصد ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوسکتا ہے، اس کے بعد سندھ کو فائدہ پہنچے گا۔ شرکا نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ضروری ہے۔

معروف دانشور ظہور دھریجہ نے کہا کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں نئے صوبے کے قیام کا طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت قومی اسمبلی اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے، تاہم بعد میں جنرل ضیا الحق نے نئے صوبے بنانے کا عمل مزید مشکل کردیا۔

مباحثے میں شرکا نے کہا کہ عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام بنیادی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جب تک اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور گورننس کے معیار کو بہتر بنانا مشکل رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:نئے صوبے گورننس بہتر بنانے کے لیے ضروری، لسانی نہیں انتظامی بنیاد پر بننے چاہییں: بیرسٹر عقیل

وفاقی پارلیمانی سیکریٹری دانیال چوہدری نے کہا کہ عوام کو لسانی یا سیاسی نعروں کے بجائے اپنے بنیادی مسائل کا عملی حل درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب عوام کے لیے روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات اہم ہیں، اس لیے انتظامی معاملات پر ہونے والی بحث کا محور بھی عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے۔

ماہر اقتصادیات خاقان نجیب نے کہا کہ پاکستان کے مسائل صرف مالی نہیں بلکہ حکومت کی اعلیٰ سطح پر بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے سے شہریوں کے لیے سہولیات میں اضافہ اور نظام حکومت کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔

ماہر اقتصادیات فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ محض ٹیکس وصولی نہیں بلکہ حکومتی اخراجات کے انتظام کا طریقہ بھی ہے۔ ان کے مطابق وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال اور سرکاری اخراجات میں اصلاحات ضروری ہیں۔

فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان 4 صوبوں سے 33 انتظامی یونٹس کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم معاملے کو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اصل توجہ شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات، انتظامی کارکردگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر ہونی چاہیے۔

صحافی اور اینکرپرسن محمد مالک نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ مسائل پر قابو کیسے پائے۔ ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوام کی سیاسی اور انتظامی معاملات میں شرکت بڑھ سکتی ہے اور شہریوں کے لیے سرکاری اداروں تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔

محمد مالک نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام محض علاقوں کو تقسیم کرنے کا عمل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا مقصد انتظامی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام کی شمولیت میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے مکمل طور پر نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کی ضرورت نہ ہو بلکہ موجودہ نظام کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرکے بھی شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں۔

مباحثے کے شرکا نے مجموعی طور پر اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کے لیے وسیع قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس، مضبوط بلدیاتی نظام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ایک مربوط اصلاحاتی پیکیج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ گورننس بہتر ہو اور عوام کے بنیادی مسائل مقامی سطح پر ہی حل کیے جاسکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp